28 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 2:35
منیٰ حادثے میں 36پاکستانیوں کے شہید ہونے کی تصدیق
جیو نیوز - اسلام آباد......وزارت مذہبی امور نے سانحہ منیٰ میں 36پاکستانیو ں کے شہید ہونے کی تصدیق کردی ہے۔وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 217لاپتا پاکستانی ایسے ہیں جن سے رابطہ کرلیاگیاہے جبکہ 85تاحال لاپتا ہیں،جن کے بارے میںمعلومات جمع کررہے ہیں۔
وزارت مذہبی امور نے سانحہ منیٰ میں 36 پاکستانی حجاج کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔وزارت کی ویب سائٹ پر شہدا کے نام جاری کردیے گئےتاہم اب بھی درجنوں حجاج لاپتا ہیں۔
شہداء میں کراچی کی حفصہ شعیب اور زرین نسیم،میرپور آزاد کشمیر کی سیدہ نرجس شہناز،دالبندین کی زینب،ایبٹ آباد کے زاہد گل،جھنگ کے سراج احمد سراج،لاہور کے میاں محمد ریاض اور عارف شامل ہیں۔
ان کے ساتھ ساتھ حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن پاکستان کے تحت حج کے لیے جانے والے محمود ارشد، رشیداں بی بی،مخدوم زادہ سید اسد مرتضیٰ گیلانی،عبدالرحمان،مسز شہناز قمر،اسلام احمد،بشریٰ بی بی، محمد حسرت،عظیم خان،محمد ادریس،عامر محمد ملوک،گل شہناز،نجمہ،نور محمد،محمد اسلم،مدینہ بی بی،توصیف افتخار،محمد اسماعیل خان، بی بی زارا،عبدالاحد حاجی عباس خان، تلمیس احمد، عزیز مائی،بی بی شاکرا،آصف خان،محمد ابراہیم خان اور محمد حسن خان کی شہادت کی بھی وزارت مذہبی امور نے تصدیق کی ہے۔
اس کے علاوہ مزید افراد نے بھی اپنے پیاروں کی شہادت کی اطلاع دی ۔
ان میں کوئٹہ کی بی بی زرہ اور عباس خان ،ضلع صوابی کےمحلہ موسیٰ خیل میرو ٹوپی کے رہائشی نذیر محمد ولد غلام احمد بھی سانحہ منیٰ میں شہید ہوگئے۔ ملتان کی 7 سالہ ثمرین اور عزیز بی بی ، ایبٹ آباد کی بلقیس بیگم ،کوٹ ادو کے عبدالرحمٰن اور ان کی اہلیہ شہناز، لکی مروت کی اخترالنساء ، رحیم یار خان کے توصیف افتخار، قمبرشہدادکوٹ کے ڈاکٹر امیر علی لاشاری اور مردان کے عبدالمالک بھی سانحہ منیٰ میں شامل ہیں۔
دوسری جانب کئی پاکستانی حاجیوں کا اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے،لاپتا حجاج میں کوئٹہ کے عبدالاحداور 60 سالہ غلام محی الدین،فیصل آباد کے خالد رمانی، ملتان کے نور محمد، حیدرآباد کےاطہرعلی خان اور ان کی اہلیہ سلمیٰ بیگم،لاہورکی ردا ایمان، چکوال کے محمدجعفرامام، لکی مروت کی بیگم جان، باجوڑ ایجنسی کے آصف خان، مردان کے حاجی عبدالصمد ، پشاور کے سردار احمد جان، شیر افضل، عمران گل، صالح محمد اور صلاوت سمیت دیگر کئی پاکستانی شہری سانحہ منیٰ کے بعد سے اب تک لاپتا ہیں ، لاپتا افراد کے اہل خانہ کی شکایت ہے کہ انہیں حکومت یا سعودی حکام کی جانب سے کوئی تعاون حاصل نہیں ہورہا۔