تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
30 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 6:19

خصوصی رپورٹ: کراچی کے تاریخی قبرستان کو ’ٹینکر مافیا‘ سے خطرہ

جیو نیوز - کراچی…ساگر سہندڑو…کراچی کے مشرقی علاقے قائد آباد میں نیشنل یونیورسٹی کے سامنے اور نیشنل ہائی وے کے بائیں طرف واقع پندرہویں صدی کے تاریخی قبرستان ” چوکنڈی “ کو حکام کی بے حسی اور عدم توجہ کے باعث ’صنعتی ‘اور’ ٹینکر مافیا‘ سے خطرہ لاحق ہے۔

شہر کی چھ سو سال پرانی تاریخ بیان کرتے’ ’ چوکنڈی قبرستان “ کے چاروں اطراف قبضہ مافیا سرگرم ہے جو تیزی سے قبرستان کی بربادی کا باعث بن رہی ہے۔ دس سے پندرہ برس پہلے تاریخی قبرستان نیشنل ہائی وے سے ہی نظر آتا تھا لیکن قبضہ مافیا کی وجہ سے اب قبرستان آدھا کلو میٹر کے فاصلے سے بھی نظر نہیں آتا۔

پندرہویں سے سترہویں صدی کے اس تاریخی قبرستان کے داخلی گیٹ سے پہلے ہی ٹینکر مافیا کی حکمرانی نظر آجاتی ہے جو نیشنل ہائی وے سے چوکنڈی قبرستان کی چاردیواری تک پہنچ چکی ہے۔ قبرستان کی پشت پر صنعتی مافیااتنی سرگرم ہوچکی ہے کہ مختصر مدت میں یہاں تین سے چار فیکٹریاں قائم کراچکی ہے۔ ان فیکٹریوں کا زہر آلود فضلا اور دھواں تاریخی قبرستان کوبہت تیزی سے ختم کرتاجارہا ہے۔

قبرستان کے دائیں اور بائیں اطرف گھروں کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے جس کے باعث تاریخی قبرستان کی چار دیواری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ تیس سالوں سے تاریخی قبرستان کی دیکھ بھال کرنے والے 2چوکیداروں کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے تاریخی قبرستان کی زمین ٹینکر اور صنعتی مافیا کو بیچ دی تھی جس کے بعد آنے والی حکومتوں نے زمین کی واپسی کے حوالے سے کو ئی کوشش نہیں کی۔

پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے قبرستان میں مقامی لوگوں کو دفنانے کی اجازت بھی دے دی تھی جس کے بعد سے آج تک اس تاریخی قبرستان میں تدفین کا سلسلہ جاری ہے۔ عام لوگوں کی تاریخی قبرستان میں تدفین کے بعد پرانی اور تاریخی قبروں کے منہدم ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں ۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق قبرستان میں نامور لوگوں کی حکومتی سرپرستی میں تدفین ایک اچھا عمل ہے لیکن عام لوگوں کو قبرستان میں تدفین کی اجازت دینا قبرستان کی تباہی کو دعوت دینا ہے۔

ضلع ملیر میں واقع قریباً 57 ایکڑ پر مشتمل اس قبرستان کے بارے میں محققین اور مئورخین کا کہناہے کہ ”چوکنڈی قبرستان “ کی بنیاد پندرہویں صدی میں جوکھیہ برادری کے سرداروں نے ڈالی تھی لیکن پہلی قبر کب اور کس کی بنائی گئی تھی اس پر تحقیق ہونا ابھی باقی ہے۔

پانچ سو سال سے زائد پرانے قبرستان میں تاریخ کے اندراج والی سب سے پرانی قبر زنکی بن یعقوب کی ہے جس پر سن 1755ء درج ہے لیکن قبرستان میں بہت ساری ایسی قبریں بھی ہیں جو اس قبر سے بھی پرانی ہیں لیکن ان پر تاریخ درج نہیں ہے۔قبرستان میں جوکھیو برادری کے علاوہ برفت اور بلوچوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔

یہاں موجود قبریں ڈھائی سے تین فٹ چوڑی، پانچ سے چھ فٹ لمبی اور چار سے چودہ فٹ اونچی ہیں۔ قبروں کی تعمیر میں پیلے رنگ کا پتھر استعمال کیا گیا ہے جس میں بڑی مہارت اور محنت سے نقش نگاری کی گئی ہے۔ چوکنڈی کی قبروں میں استعمال کیا گیا پتھر ہمیں سندھ کے دیگر تاریخی قبرستانوں اور عمارتوں میں بھی استعمال ہوتا نظر آتا ہے۔

یہاں کی قبروں کی خاص بات یہ ہے کہ قبروں میں استعمال کیا گیا پتھر بھی چار کونوں والا ہے جس پر مرد و خواتین کی قبروں کے حوالے سے علیحدہ علیحدہ نقش نگاری کی گئی ہے جبکہ قبرستان میں بغیر پتھر والی بھی بہت ساری قبریں موجود ہیں جو عام لوگوں کی معلوم ہوتی ہیں۔

مردوں کی قبروں میں استعمال کئے گئے پتھروں پر گھڑ سواری، تلوار بازی، خنجر،پگڑی اور تیر و تلوار کے نقش بنائے گئے ہیں جبکہ خواتین کی قبروں پر استعمال کئے گئے پتھروں پر زیورات، گلے کے ہاراو پھول جیسے نازک و دلکش نقش بنائے گئے ہیں ۔ بچوں کی قبروں پر جھولے اور کھلونے جیسے نقش موجود ہیں۔

قبرستان میں موجود قبروں کے پتھروں پر مختلف قسم کے جانوروں اور انسانوں کی شکلوں سمیت پانچ سو سال پہلے استعمال ہونے والے اسلحے کی تصویر کشی بھی موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے لوگ نہایت باذوق اور ترقی پسند تھے۔

سندھی ادبی بورڈ کے رسالے کے مطابق چوکنڈی قبرستان پر سب سے پہلے مستند تحقیق برطانوی مئورخ اور محقق ہنری کوزنس نے1910ء میں کی تھی جو اس وقت انگریز حکومت کی جانب سے برصغیر میں محکمہ آرکیالوجی کے سپرنٹنڈنٹ تھے ، اس کے بعد ہندوستانی سول سروس کے ممبر جے اے ایل کارٹر کانام آتا ہے جن پر انگریز سرکار نے سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں موجود تاریخی مقامات پر تحقیق کی ذمہ داری رکھی تھی۔

پاکستان بننے کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے سندھ کے تاریخی مقامات پر کئی کتابیں شائع کی گئیں جن میں چوکنڈی کے قبرستان کا ذکر بھی کیا گیا۔ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ایف اے خان، ممتاز حسن، شیخ خورشید حسن اور ایم اے غفار کے نام قابل ذکر ہیں جنہوں نے چوکنڈی کے قبرستان سمیت دیگر تاریخی مقامات پر تحقیق کی۔

چوکنڈی قبرستان پر ایک جرمن محقق نے بھی سن 1978 ء میں جرمن زبان میں ایک مستند کتاب لکھی تھی جس کو 2003 میں ذوالفقار علی کلہوڑو نے انگریزی میں ترجمہ کیا۔

چوکنڈی قبرستان پر علی احمد بروہی نے بھی ایک کتاب لکھی جس میں وہ چوکنڈی کے حوالے سے مزید نئی باتیں سامنے لے کرآئے۔ محکمہ سندھ آرکائیوزاور اطلاعات ونشریات نے1993 ء میں کلیم اللہ لاشاری کی لکھی بھی ایک کتاب شائع کی تھی جس میں انہوں نے چوکنڈی قبرستان کی تاریخ و تحقیق پر بحث کی ہے۔

سندھ کی ہزاروں سال پر محیط عظیم تاریخ کے گواہ چوکنڈی قبرستان کی سیکورٹی پر مامور چوکیداروں کے مطابق آخری بار قبرستان میں جنرل ضیا کے دور حکومت میں ترقیاتی کام ہوا تھا جس کے بعد آنے والی حکومتوں نے آج تک چوکنڈی قبرستان میں کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں کروایا۔ چوکیداروں کے مطابق عالمی ورثہ قرار دیئے جانے والے قبرستان کے نام پر آنے والے فنڈز کون کھا جاتا ہے ان کو معلوم نہیں ہے۔

گذشتہ دور حکومت میں سیاحت و ثقافت کی وزیر سسی پلیجو نے چوکنڈی قبرستان میں کانفرنس تو کروائی تھی لیکن اعلان کردہ ترقیاتی کام آج تک نہیں ہو پائے ۔ شرمیلا فاروقی کی جانب سے محکمہ ثقافت کی وزارت سنبھالنے کے بعد بھی قبرستان کے لئے کئی اعلانات کئے جاچکے ہیں لیکن تاحال کسی بھی اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

قبرستان کی دیکھ بھال کرنے والے چوکیدار کے مطابق ٹینکر مافیا نے تاریخی قبرستان ” چوکنڈی “ کا راستہ بھی ہتھیا لیا تھا لیکن کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے ایکشن لیتے ہوئے قبرستان کا راستہ بحال کروایا ۔ چوکیداروں کے مطابق محکمہ ثقافت و آثار قدیمہ نے قبرستان کی دیکھ بھال کے لئے ابھی مزید دس چوکیدار بھرتی کئے ہیں لیکن صنعتی اور ٹینکر مافیا سے جگہ خالی کروانے کا کوئی بھی بندوبست نہیں کروایا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.