30 ستمبر 2015
وقت اشاعت: 16:36
پشاور میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں تشویش ناک اضافہ
جیو نیوز - پشاور.......پشاورمیں ایک طرف دہشت گردی کی وارداتوں میں نسبتاً کمی آئی ہے تو دوسری جانب اسٹریٹ کرائمز کی شرح میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔
پشاور میں موبائل فونز اور نقدی چھیننے والے گروہ شاہراہوں اورگلی محلوں میں سرگرم عمل ہیں، مزاحمت پر گولی مارنے سے بھی نہیں چوکتے۔
سردار فخر کا تعلق پشاور کے محلہ باقر شاہ سے تھا۔ دفتر سے واپسی پر فخرگھر کے قریب راہزنوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ مزاحمت کی توملزمان نے اسے گولی ماردی۔ موبائل فون اور نقدی چھین لی اور فرارہوگئے۔ مقتول کے گھر صف ماتم بچھی ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ پشاور آج کل رہزنوں کے نرغے میں ہے تومبالغہ نہ ہوگا۔ اندرون شہر فقیر آباد، حیات آباد، گلبہار، بھانہ ماڑی، چمکنی اور پہاڑی پورہ کے علاقوں میںا سٹریٹ کرائمز کی شرح کافی زیادہ ہے۔
سو سے زیادہ گاڑیاں بھی اسلحہ کی نوک پر چھینی جاچکی ہیں۔ پولیس کاتفتیشی ریکارڈ بتاتا ہے کہ چھینے گئے موبائل فونز جہاں دہشتگردی میں استعمال ہوتے ہیں، وہیں بھتہ وصول کرنے اور اغواء برائے تاوان میں موبائل فونز کا استعمال معمول بن چکا ہے۔
چھینے گئے موبائل فونز ہمسایہ ملک افغانستان سمگل کئے جاتے ہیں۔ پولیس اور حساس اداروں کے مطابق اس کاروبار میں پشاور کے چند موبائل ڈیلرز ملوث ہیں۔