6 مئی 2016
وقت اشاعت: 22:19
شہباز بازیابی کے وقت تندرست نظر آئے، شیو بڑھی ہوئی تھی
جیو نیوز - کوئٹہ......کوئٹہ سے بیس 25 کلومیٹر کے فاصلے پر کچلاک کا نواحی علاقہ،جہاں آج سیکورٹی فورسز نے اہم ترین کامیاب آپریشن کیا،حساس اداروں،محکمہ داخلہ پنجاب اور ایف سی نے انٹیلی جنس انفارمیشن کی بنیاد پر کچلاک کے ایک ہوٹل کے عقب میں بنے کمروں پر چھاپا مارا اور وہاں قید سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کو بازیاب کرالیا۔
مسلح افواج کے ادارے آئی ایس پی آر نے اس بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز تاثیر کو سیکورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی میں اغواکاروں کے چنگل سے چھڑالیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران چند مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لےلیا گیا، جن سے اس پورے معاملے پر پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
بازیابی کے وقت شہباز تاثیر تندرست نظر آئے لیکن ان کے بال اور شیو بڑھی ہوئی تھی،کامیاب کارروائی کے بعد سیکورٹی حکام نے والدہ اور اہلیہ سے شہباز تاثیر کی بات کرائی تو اتنے عرصے بعد گھر والوں کی آواز سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے،شہباز تاثیر کوتقریباً ساڑھے چار برس پہلے 26 اگست 2011 کو لاہور کے علاقے گلبرگ سے اغوا کیا گیا تھا۔
اغوا کار اتنے تربیت یافتہ تھے کہ شہباز تاثیر کے پاس موجود بلیک بیری فون بھی ان کی گاڑی میں پھینک گئے،تاکہ موبائل فون کے ذریعے ان کے روٹ کا علم نہ ہوسکے،،اغوا کاروں نے واردات کےبعد ایک کے بعد چار سے پانچ گروپوں کے ہاتھوں شہباز تاثیر کو بیچا تاکہ ان کا پتہ نہ چلایا جاسکے اور اس دوران شہباز تاثیر کے اہل خانہ سے چالیس سے پچاس کروڑ روپے تاوان بھی طلب کیا جاتا رہا،لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بالآخر ان کا سراغ لگا ہی لیا۔