9 مئی 2016
وقت اشاعت: 11:33
پولیس تفتیش فنڈز میں خورد برد سےمتعلق رپورٹ عدالت میں پیش
جیو نیوز - کراچی......کراچی سپریم کورٹ میں پولیس میںتفتیش فنڈز میں خورد برد سےمتعلق کمیٹی نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔جمع کرائی گئی رپورٹ میں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور اے آئی جی فنائنس کو ذمہ دار بتایا گیا ہے۔
آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے سماعت کے دوران جسٹس امیر ہانی مسلم کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کا رویہ متعصبانہ ہے، میرے لیے نازیبا الفاظ بھی استعمال کئے۔
سپریم کورٹ میں سندھ پولیس کے تفتیشی فنڈز میں خرد برد کا معاملہ کی سماعت ہوئی ،سپریم کورٹ کے حکم پر ایڈیشنل آئی جی ثناء اللہ عباسی،ایڈیشنل آئی جی اے ڈی خواجہ اورڈی آئی جی سلطان خواجہ نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کردی۔
رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ میں خصوصا ضلع مٹیاری،ضلع کشمور،مٹھی اور دادو میں بڑے پیمانے پر تفتیشی فنڈز جاری کیے گئے،مٹیاری میں 2کروڑ 23لاکھ،کشمور1کروڑ31لاکھ اور مٹھی میں 49لاکھ روپے جاری کیے گئے،تفتیشی فنڈز قانون کے مطابق جاری نہیں کیے گئے،تفتیش کی مد میں صوبہ بھر میں مجموعی طور پرساڑھے 21کروڑ روپے فنڈز جاری کیے گئے،رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 99فیصد رقوم نقد جاری کی گئی،جبکہ قانون کے مطابق صرف کراس چیک کے ذریعے فنڈز جاری کیے جاسکتے ہیں۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سرکاری پیسہ نقد جاری ہوجائے،تو جسٹس امیر ہانی مسلم نے کمیٹی سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں،تفتیشی فنڈز میں خورد برد کا ذمہ دار کس کو سمجھتی ہے،کمیٹی نے عدالت کوبتایا کہ فنڈز کےاجراء کے ذمہ دار آئی جی سندھ غلام حیدرجمالی،اوراے آئی جی فنائنس فدا حسین شاہ ذمہ دار ہیں۔
اسپیشل برانچ کوتفتیش کے لیے 50لاکھ روپے جاری کیے گئے،جوغیرقانونی ہے کیونکہ اسپیشل برانچ کامینڈیٹ تفتیش نہیں، کمیٹی ممبر ڈی آئی جی سلطان خواجہ نے عدالت میں بیان دیا کہ اقربا پروری کے ذریعے لوگوں کونوازا گیا،ایس ایس پی انوسٹی گیشن ویسٹ کو آئی جی سندھ کے کہنے پر سی سی پی اونے براہ راست فنڈز جاری کردیئے،جبکہ فنڈز کا اجراء ایس ایس پی ویسٹ کے ذریعے کیا جانا چاہیے تھا۔
آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے سماعت کے دوران جسٹس امیر ہانی مسلم کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کا رویہ متعصبانہ ہے، آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت میری عزت کا خیال نہیں کیا گیا، میرے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے، آپ انکوائری کرنے والی کمیٹی سے رابطے میں ہیں،جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ ہم میرٹ پر کیس چلارہے ہیں ہمارا رویہ متعصبانہ نہیں، وہ کسی طور بھی کسی کی سماعت کرنے والے بینچ سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔ اگر انہیں فیصلے پر اعتراض ہو تو وہ نظر ثانی کی درخواست دائر کردیں ۔