تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
9 مئی 2016
وقت اشاعت: 19:51

اختیارات سے تجاوز کر کے حکم نہیں دے سکتے، سپریم کورٹ

جیو نیوز - کراچی......پریم کورٹ نے کراچی میں امن وامان عمل درآمد کیس میں سزایافتہ مجرموں کی پیرول پررہائی کے معاملے پر سابق ہوم سیکریٹری داخلہ اور ڈائریکٹر پیرول کو طلب کرلیاجبکہ رینجرز کوتھانوں، ایف آئی آر اور تفتیش کے اختیار کی درخواست کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں امن وامان عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی ،سماعت جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی۔ عدالت میں رینجرز نے ایک بار پھر اختیارات میں سالانہ توسیع کی درخواست کردی، وکیل رینجرزشاہد باجوہ نے عدالت سے درخواست کی کہ رینجرزکے اختیارات میں سالانہ بنیادوں پر توسیع ،پولیس اسٹیشن کے قیام اور بروقت پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کا معاملہ حل کیاجائے۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ اختیارات سے تجاوز کرکے کوئی حکم نہیں دے سکتی،یہ انتظامی مسائل باہمی رضا مندی سے طے کریں، رینجرز نے لکھ کر دے دیا،اب سندھ حکومت کو اسے سمجھنا چاہیے،جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ اب حکومت جانے اور اسکا صوبہ جانے،رینجرز نے اپنا کام کردیا۔

سپریم کورٹ میں آئی جی سندھ نے رپورٹ پیش کردی ۔آئی جی سندھ پولیس نے بیان دیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تمام کیسز ری اوپن کیے گئے ہیں، اغواءبرائے تاوان کے سزا یافتہ مجرموں کی پیرول پر رہائی پرجسٹس امیر ہانی مسلم نےاستفسار کیا کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو پیرول پر کیسے چھوڑا جاسکتاہے؟

محکمہ داخلہ کی جانب سے جواب جمع کرایا گیاکہ سابق ہوم سیکریٹری ڈاکٹرنیاز عباسی کی سربراہی میں کمیٹی نے پیرول پر رہائی کی منظوری دی۔سپریم کورٹ نے امن وامان عملدرآمد کیس پر حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ سابق ہوم سیکریٹری اور ڈائریکٹر پیرول آئندہ سماعت پر پیش ہوں جبکہ رینجرزکی درخواست پر وفاق اور صوبائی حکومت اپیکس کمیٹی کے ساتھ بیٹھ کر یہ معاملہ حل کرے، بعد میں کراچی امن وامان عمل درآمدکیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.