تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
15 جولائی 2012
وقت اشاعت: 1:57

اوباما نے کیانی کو خبردار کیا کہ اعتماد نہ ہونے پرہم تصادم کی راہ پر چل نکلیں گے،امریکی اخبار

جیو نیوز - کراچی…محمد رفیق مانگٹ…امریکی اخبار کے مطابق 20 اکتوبر، 2010 کو پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ وائٹ ہاوٴس میں اوباما کی ملاقات ہوئی جس میں اوباما نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’اعتماد راتوں رات نہیں ہوتا، یہ کرنا پڑتا ہے ورنہ ہم تصادم کی راہ پر چل نکلیں گے‘۔امریکی اخبار کے مطابق امریکا کو سلالہ چیک پوسٹ واقعہ پر پاکستان سے معافی مانگنے میں اس لئے سات ماہ لگے کہ دونوں ممالک کے اعصاب شکن اور باہمی تباہ کن ’دوستانہ‘ تعلقات ہیں ۔ہلیری کلنٹن کے 3جولائی کو اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے فون پر سحر انگیز الفاظ تعلقات کو پھر نئے موڑ پر لے آئے، پاکستان کے لئے ہلیری کلنٹن کی طرف سے معمولی سی معافی ’کہ ہمیں پاکستانی فوج کے نقصان پر افسوس ہے‘نیٹو سپلائی کی بحالی کے لئے کافی تھی ، اخبار لکھتا ہے کہ امریکی صدر اوباما نے11نومبر2009کو پاکستانی صدر کے نام ایک خفیہ خط لکھا جس میں عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لئے نئے اور بہترراستے تلاش کرنے پر زور دیا گیا ،خط میں کہا گیا تھا کہ عسکریت پسند پاکستان،خطے اور امریکا سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہذا ان کے نیٹ ورک کو ہم تبا ہ کر سکتے ہیں۔ اخبار کے مطابق پاکستانی صدر کی طرف سے اوباما کو دیا گیا جواب ممکنہ طور پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ڈرافٹ کیا گیا تھا جس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے عزم کا اظہار تو کیا گیا تاہم افغانستان کی سرزمین کو بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف ایک جنگ کے طور پر استعمال کرنے کی بات کی گئی۔حقانی نے اسلام آباد کو خبردار بھی کیا تھا کہ اوباما کے خط کے جواب میں پاکستانی ردعمل قبول نہیں کیا جائے گا،لیکن ان کے اس پیغام پر غور نہیں کیا گیا۔اخبار کے مطابق 20 اکتوبر، 2010 کو پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ وائٹ ہاوٴس میں اوباما کی ملاقات ہوئی جس میں اوباما نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’اعتماد راتوں رات نہیں ہوتا، یہ کرنا پڑتا ہے ورنہ ہم تصادم کی راہ پر چل نکلیں گے‘۔بھارت کے ساتھ پروان چڑھتے امریکی باہمی تعلقات ایک دھمکی کی صور ت میں سامنے آئے اور اوباما نے کیانی کو واضح کہا کہ تمہاری انٹیلی جنس غلط ہے تم امریکی صدر سے یہ سن رہے ہو کہ امریکا مضبوط اور مستحکم پاکستان دیکھنا چاہتا ہے۔اخبار کے مطابق اس وقت کیانی نے جواب میں14 صفحات کا ایک میمو اوباما کے حوالے کیا جس میں کہا گیاتھا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، امریکی مداخلت اور بڑھتے رسوخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان کو اپنے طور پر چلانا چاہتا ہے ۔امریکا پاکستان میں منظم افراتفری برقرا ر رکھنے کا سبب بن رہا ہے۔امریکی حکمت عملی کا بنیادی مقصد پاکستا ن کوغیر مستحکم کرنا ہے اس میمو کے آخری پیراگراف میں کہاگیا تھا کہ آخر کار ہم کمرے میں صحیح کونے پر کھڑے ہونا پسند کریں گے۔اخبار کے مطابق سلالہ پوسٹ واقعے پر معافی کو جس طرح رپورٹ کیا گیا حقیقت اس کے برعکس اور عجیب ہے اوباما انتظامیہ پاکستان سے معافی مانگنے کیلئے کئی ماہ قبل عارضی فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔لیکن افغانستان میں قرآن مجید کونذرآتش کے واقعے کی وجہ سے وہاں پر فوری معافی مانگنا پڑی،اس کے بعد حنا کھر کی درخواست پر معافی کو التوا میں ڈالا گیا کہ پاکستانی پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ جب تک نہ ہو امریکا معافی کے فیصلے کو التوا میں ڈال دے ۔پاک امریکا تعلقات کبھی بھی بہتر نہیں رہے ایک ماہ اسٹریٹجیک تعاون پر بات ہوتی تو دسرے ماہ اختلافات شروع ہوجاتے۔ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک اتحادی تھے۔اگر ایک طرف کی انٹیلی جنس کوئی کارروائی کرتی تود دسری اس کو اپنے خلاف سمجھتی تھی۔ان کشیدہ تعلقات میں مفید ترین پل حسین حقانی تھے انہوں نے مذاکرات قائم رکھنے اور کمزور سویلین حکومت کی نمائندگی کی کوشش کی۔ انہیں غداری کے الزامات پر فارغ کردیا گیا اب وہ رواں موسم خزاں میں بوسٹن یونیورسٹی میں پڑھائیں گے،وہ پاکستان کے لئے بے کار ہیں لیکن طلباء کیلئے بہتر ہوں گے ۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.