تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
25 جولائی 2012
وقت اشاعت: 16:46

توہین عدالت کیس میں پارلیمنٹ میں بحث کا ریکارڈ طلب

جیو نیوز - اسلام آباد…سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے خلاف حالیہ نئی قانون سازی پر پارلیمنٹ میں کی گئی بحث کا ریکارڈطلب کرلیاہے۔ چیف جسٹس افتخارچودھری نے کہاکہ عدالت چاہے مجسٹریٹ کی ہو، صدر ، وزیراعظم سمیت کوئی اس کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا، وزیراعظم کو استثنیٰ نہیں دیا تو صدر کو بھی نہیں دیں گے۔ چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے توہین عدالت قانون کے خلاف دائر درخواستوں کے مقدمہ کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیاستدانوں کی بصیرت تھی کہ قانون کو 18 ویں ترمیم میں نہیں چھیڑا۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہوں تو یہ چیز تباہی کی طرف لے جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیسے ہوسکتا ہے کوئی عدالت کو گالی دے اور پھر کہے کہ اسے تو استثنٰی ہے۔صدرسمیت کوئی تصور نہیں کرسکتا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے خواہ وہ مجسٹریٹ کی عدالت ہی کیوں نہ ہو، کیا امریکی صدر رچرڈ نکسن کو استثنیٰ ملا تھا۔ درخواست گزار وکیل اے کے ڈوگر نے کہاکہ جب آرٹیکل 248 ون میں توہین عدالت سے استثنیٰ نہیں تو پھر یہ کیسے کسی قانون کیذریعے مل سکتاہے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ معاملہ بہت سادہ ہے ، صدر کو حاصل استثنیٰ متاثر نہیں ہوسکتا۔چیف جسٹس نے کہاکہ پارلیمانی ریکارڈ میں دیکھیں گے کہ اِس بل پر کیا غوروفکر ہوا، وکیل نے کہاکہ بل پر بحث نہ ہونے پر اپوزیشن نے واک آوٴٹ کیا، چیف جسٹس نے کہاکہ کیا واک آوٴٹ حل ہے؟ ان کو تو وہاں مزاحمت کرنا چاہیے تھی۔ جسٹس خلجی عارف نے کہاکہ یہ ووٹر کے حق سے ناانصافی ہے کہ باہر جاکر کافی پینا شروع کردیں۔ جسٹس تصدق جیلانی نے کہاکہ ایسا رویہ ، مینڈیٹ سے دھوکا دہی ہے۔ چیف جسٹس نے سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے کہاہے کہ کوشش ہوگی کہ کل اس کیس کی سماعت مکمل کرلی جائے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.