دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لئے
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

حد چاہئے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہگار ہوں، کافر نہیں ہوں میں

رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
رتبے میں مہرہ ماہ سے کمتر نہیں ہوں میں

غالب وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

Posted on May 12, 2011