بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کوئی بہت بڑا سانحہ گزر گیا مگر کسی شخص کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تک نہ آئی اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ سخت دل یا تنگ ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے صبر کیا ہو۔
صبر
ایمان والوں پر اتنے مصائب آئے ہیں کہ صبر کرنے پر قیامت کے دن ان کے ذمے ایک ایک گناہ نہیں ہوتا۔
جو شخص کسی مشکل میں مبتلا ہو اور کسی سے شکوہ شکایت نہ کرے تو اللہ کا ذمہ ہے کہ اس کو بخش دے۔
اگر تونے صدمے میں صبر کیا اور ثواب کی نیت کی تو تجھے جنت عطا کی جائے گی۔
اللہ نے جو کچھ دیا ہے اس کا ہے اور جو کچھ لے لیا وہ بھی اس کا ہے اور ہر چیز کی مدت مقرر ہے بس صبر کرو۔
عورت صبر کا پیکر ہے۔
صابر کبھی خود کشی نہیں کرتا۔
بہت سے کام صبر سے نکلتے ہیں اور جلد باز منہ کے بل گرتے ہیں۔
زمانے کے گردش سے دل شکستہ ہو کر نہ بیٹھ اس لیے کہ صبر اگرچہ کڑوا ہے۔ مگر اس کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
بہادری یہ ہے کہ مصیبت کے وقت صبر و تحمل سے کام لیا جائے۔
صبر زندگی کے مقصد کے دروازے کھولتا ہے۔ کیونکہ صبر کے سوا اس دروازے کی اور کوئی چابی نہیں۔
ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جلد باز نقصان نہ اٹھائے اور ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے کہ صبر کرنے والا کامیاب نہ ہو۔
میں نے عمدہ کھانے کھائے اور نشہ آور چیزوں کو پیا لیکن میں نے صبر اور امن سے زیادہ لذیذ کسی چیز کو نہ پایا۔
حرام کاموں سے نفس کو روکنا بھی صبر کی دوسری قسم ہے۔

سماجی رابطہ