تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
1 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 7:31

قحط زدہ ایتھوپین قبائل کو ایک اور خطرے کا سامنا

جیو نیوز - کراچی......حافظ محمد نعمان......قحط زدہ ایتھوپین قبائل کو ایک اور فنا کردینے والے خطرے کا سامنا ہے یعنی ”جدید زندگی“۔ ایک ہسپانوی فوٹوگرافر ”ڈیگو ایرویو مینڈیز“ نے ایتھوپیا کے ایک گاؤں کی شاندار تصاویر لیں جہاں ثقافت اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے اور جہاں روایات کو نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

چند سالوں سے ایتھوپیا کے گاؤں ”اومو“ میں روایتی قبائلی زندگی کو ایک نئے خطرے کا سامنا ہے یعنی ”جدید زندگی“ اور ہسپانوی فوٹوگرافر کی شاندار تصاویر ایتھوپیا کی روایتی زندگی کی عکاسی کرتی ہیں جبکہ ایتھوپیا کی روایات میں تیزی سے تبدیلیاں جاری ہیں۔

ہسپانوی فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ وہ ایتھوپیا میں جذبات اور شخصیات کی ٹھیک ٹھیک تصاویر اتارنا چاہتا تھا تاکہ دیکھنے والوں کو دور دراز کے حقائق اور اختلافات سے آشنا کراسکے جیسا کہ ایتھوپین خطے کے گاؤں ”اومو“ میں کھوجانے والے نسلی گروپ۔

مسٹر مینڈیز کا مزید کہنا تھا کہ وہ سالوں سے ایسے لوگوں کی تصاویز لینا چاہتا تھا جن کا تعلق ایتھوپیا کے دوردراز گاؤں ”اومو“ سے ہے۔ ایک ایسی جگہ جو غیر معمولی انسانی تہذیب و ثقافت اور حیرت انگیز خوبصورتی رکھتی ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ یہ ایک نہایت کٹھن سفر تھا جس میں جگہ جگہ مہم جوئی اور بہترین تجربات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس دوران اس نے کچھ وقت خطے کے قدیم قبائل کے حیرت انگیز ثقافتی ورثے کو سیکھنے میں لگایا۔

ہسپانوی فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ وہ قبائلی معاشرے کے کام کرنے کے انداز اور جس انداز میں قبائلی ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور اپنی روایات کی عزت کرتے ہیں، کو پسند کرتا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت بہت زیادہ حیران ہوا جب اس نے ”ہَمر بْل جمپنگ سرمنی“ میں شریک ہوا جہاں ایک نوجوان کی خاتون رشتے داروں کو سخت کوڑے لگائے گئے چونکہ انہوں نے اپنی خوشی کا اظہار ناچ کر اور باجا بجاکر کیا۔

مینڈیز کا کہنا تھا کہ اگر اس تقریب میں کوئی نوجوان لڑکا فوراً بیل کے اوپر سے چھلانگ لگالیتا تھا تو وہ مرد کہلاتا تھا۔ وہاں خون اور خوشی کا ایک عجیب مجموعہ تھا جس نے اسے مزید کام کرنے پر مجبور کیا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.