14 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 11:47
دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں بھی خواتین کی عزت محفوظ نہیں
جیو نیوز - کراچی .....عاقب علی.....حوا کی مظلوم بیٹی جس ملک میں بھی ہو ستم طریفی اس کا مقدر بنی ہوئی ہے ، انسان ہونے کے باوجود جنوبی ایشیاء ہی ان کے لئے نیم روشن خطہ نہیں بلکہ طاقتور ترین تصور کئے جانے والے جی ٹوئنٹی ممالک کی بھی ایک تہائی خواتین جنسی طور پر ہراساں ہونے سے نہیں بچ پاتیں۔
اس بات کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان خواتین کی اکثریت اپنے اوپر گزرنے والی ’قیامت‘ پر اف تک نہیں کرپاتی ۔جی ٹوئنٹی ممالک میں ایسی خواتین کی شرح61فیصد ہے جو ستم تو سہتی ہیں مگر اف نہیں کرتیں۔ اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتیں۔
خواتین کو دفاتر اور کام کرنے والے دیگر مقامات پر جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے واقعات سے متعلق ”تھامسن رائٹر زفاؤنڈیشن “ اور روک فیلر فاوٴنڈوومن“ نے حال ہی میں ایک خصوصی سروے کیا، جس کے نتائج پر مشتمل رپورٹ کے مطابق جی ٹوئنٹی ممالک کی خواتین کو بھی ایک نہیں ،تین سنگین مسائل کا سامنا رہتا ہے ۔ انہیں ہراساں تو کیا ہی جاتا ہے ، مردوں کے مقابلے میں تنخواہیں بھی کم دی جاتی ہیں اور کام بھی زیادہ لیا جاتا ہے۔
سروے کے مطابق جن جی ٹوئنٹی ممالک میں خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے، ان میں ترکی ،میکسیکو اورارجنٹائن سرفہرست ہیں جبکہ جنوبی کوریا، روس، جرمنی اور برطانیہ ایسے ممالک ہیں جہاں کی خواتین کو اس حوالے سے نسبتاً کم واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
صرف بھارت ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں کی خواتین نئی دہلی میں سن 2012ء میں پیش آنے والے گینگ ریپ کے سنگین واقعے کے بعدسے اس کے خلاف سب سے زیادہ آواز اٹھانے لگی ہیں۔ یہاں ایسی خواتین کی شرح 53فیصد ہے۔ امریکہ اور کینیڈا میں بھی خواتین اپنے خلاف ہونے والے ظلم پر آواز اٹھاتی ہیں لیکن بھارتی خواتین کی شرح ان ممالک سے بھی زیادہ ہے۔
حیران کن طور پر روس، جنوبی کوریا، برازیل، جاپان اور انڈونیشیا ایسے ممالک ہیں جہاں زیادہ تر خواتین کو ہراساں کرنے واقعات شاذونادر ہی رپورٹ ہوتے ہیں ۔
واضح رہے کہ جی ٹوئنٹی ممالک میں ترکی، میکسیکو، ارجنٹینا، برازیل، سعودی عرب، بھارت، فرانس، اٹلی، جاپان ، کینیڈا، امریکہ، جنوبی افریقہ، چین، آسٹریلیا، انڈونیشیاء، برطانیہ، جرمنی ، روس اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔