17 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 11:17
برطانیہ کی پہلی پاکستانی اور مسلم خاتون چانسلرعہدے سے فارغ
جیو نیوز - کراچی.....ساگر سہندڑو.....برطانیہ کی پہلی مسلم اور پاکستانی خاتون چانسلرنویدہ اکرام کو مالی بے ضابطگیوں کی شکایت پر عہدے سے ہٹاکر ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انہیں لیبر پارٹی برطانیہ میں’ ایشیا کی پہلی خاتون کونسلر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
ویسٹ یارک شائر پولیس کے مطابق عوامی شکایت پر پہلی مسلم خاتون چانسلر کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تفتیش شروع کی گئی ہے جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہے ، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نویدہ اکرام مالی بے ضابطگیوں میں ملوث تھیں۔ ابھی مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن سے متعلق تفتیش کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی جاسکتی۔
لیبر پارٹی یارک شائر کے ترجمان کا کہنا ہے چانسلر نویدہ اکرام کو مالی بے ضابطگیوں سے متعلق پولیس کو موصول ہونے والی عوامی شکایات پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد نویدہ اکرام کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا، ابھی تک پولیس نے ان کو ملزم نہیں ٹھہرایا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل سے بات کرتے ہوئے پاکستانی نژاد خاتون چانسلر نویدہ اکرام نے خود کو معصوم اور بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن مالی بے ضابطگیوں کی شکایت کی گئی ہے وہ چانسلر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔ برطانیہ میں کرپشن اور بے ضابطگیوں سمیت دیگر شکایات کے بعدپارٹی کی جانب سے عہدیداروں کوہٹایا جانا معمول کی بات ہے۔
بریڈ فورڈ کی سابق چانسلر نویدہ اکرام نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ ایک شخص کی جانب سے پولیس کو کی گئی شکایت کے بعد لیبر پارٹی کے انتظامی معاملات دیکھنے والی کمیٹی نے انہیں میئرشپ سے وقتی طور پر ہٹایا ہے۔ وہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد دوبارہ چانسلر کے عہدے پر بحال ہوجائیں گی۔
نویدہ اکرام خود کے خلاف ہونے والی تفتیش کو معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں انہیں بہت بڑے حلقے کی حمایت حاصل رہی ہے اور انہیں ایک ایشیائی برطانوی مسلم ہونے کے ناتے احساس ہے کہ وہ روادار سماج میں رہتی ہیں۔ انہوں نے اپنے سپورٹرز کا شکریہ ادا کیا۔
نویدہ اکرام پہلی بار 2004 میں لیبر پارٹی کی جانب سے کونسلرجبکہ 2011 میں پہلی مسلم پاکستانی نژاد کی حیثیت میں بریڈ فورڈسے چانسلر منتخب ہوئیں۔ انہوں نے فزیولاجی میں گریجویشن کے بعد سوشیولوجی میں ایم ایس سی کیا ہے۔
نویدہ اکرام نے لیڈر شپ، نیکسٹ جنریشن، حکومتی اصلاحات، خواتین اور نوجوانوں کے مسائل پر کئی اہم کورسز بھی کر رکھیں ہیں، انہوں نے خواتین، بالغان، نوجوانوں، تعلیم اورسماجی مسائل سمیت دیگر مسائل پر کئی اہم اور بڑی کانفرنسز کی نمائندگی بھی کی ہے، نویدہ اکرام لیبر پارٹی کی خواتین آفیسر بھی رہی ہیں۔
نویدہ اکرام چانسلر کے علاوہ بھی کئی عہدوں پر تعینات رہی ہیں، وہ ہاؤسنگ کمیٹی بریڈ فورڈ کی چیئرپرسن اور کارپوریٹ گورننس اینڈ آڈٹ کی ڈپٹی چیئرمین بھی تعینات رہ چکی ہیں، نویدہ اکرام نیشنل ایمبسڈر آف ڈبلیو، ای، اے ، مساجد کیلئے کام کرنے والی کونسل کی پہلی خاتون ممبر، بریڈ فورڈ کالج کے بورڈ آف گورنرز کی ممبر، ٹیچنگ فاؤنڈیشن ہاسپیٹل کی گورنر سمیت کئی اہم عہدوں اور اداروں میں کام کرچکی ہیں۔
نویدہ اکرام کے والد 1960 میں پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے ، ان کے والد نے ببریڈ فورڈ میں چاکلیٹ بنانے والی کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی تھی۔ نویدہ اکرام طالب علمی کے زمانے سے ہی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھی جس وجہ سے آگے چل کے انہوں نے سیاست میں حصہ لیا۔