18 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 11:15
فرانس میں رواں برس موسمیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس ہوگی
جیو نیوز - پیرس.....رضا چوہدری...... فرانس میںرواں برس کے آخر میں موسمیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس منعقد ہورہی ہے، فرانسیسی صدر فرانسواہولینڈے نے اقوام متحدہ کے اجلاس میںخطاب میں کہا ہے کہ دنیا کی بقا کا دارومدار موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں اربوں افراد کی غذائی ضروریات پر پڑنے والے اثرات سے منسلک ہے،کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سے زراعتی پیداوار میں اضافے میں ناکامی کا معاملہ بین الاقوامی خطرے کا باعث ہے۔
ان کاکہناتھاکہ میرا دھیان غذائی اجناس کی دستیابی پر مرتکز ہے لہٰذا موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدام کیا جائے،دنیاکے پاس، ’غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں، اس کے نتائج بھوک کے علاوہ دوررس نوعیت کے حامل ہیں، یہ محض عالمی غذائی سلامتی کا نہیں، دراصل یہ معاملہ دنیا کی سلامتی کا ہے۔
اس بات کی تصدیق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دورہ یورپ میں بھی کیا ہے اور کہا کہ’ یہ اتفاقیہ امر نہیں کہ شام میں خانہ جنگی سے فوری قبل، ملک تاریخ کی بدترین خشک سالی کا شکار رہا‘، جس کے نتیجے میں 15 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس کے باعث سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا، جو آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھا‘۔اْن کے الفاظ میں، ’میں یہ نہیں کہتا کہ شام کا بحران موسیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہے، ظاہر ہے، ایسا نہیں ہے، اس کا سبب ایک مطلق العنان آمر ہے جو اپنے ہی لوگوں پر بم برسا رہا ہے، اْنھیں بھوک، اذیت دے رہا ہے، اور اپنے ہی لوگوں کو زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کر رہا ہے، تاہم خشک سالی کی تباہ کْن صورت حال نے واضح طور پر ایک خراب صورت حال پیدا کی، جو انتہائی بدترین حالت تھی۔
انہوں نے بھی موسمیاتی تبدیلی کو کئی پیچیدگیوں کا موجب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر اس کے باعث تنازع جنم نہ بھی لےمگر مزید مسائل کی چنگاریاں اٹھتی ہیںاورپیچیدہ نتائج نکلنے ہیں، جس صورت حال کو حل کرنا مشکل تر معاملہ ہوتا ہے‘۔
یورپی ممالک کے حالیہ دورہ کے دوران جان کیری نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ موسماتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدام کریں، کیونکہ اقدام کیے بغیر تارکین وطنکو درپیش پریشان کن صورتحال کا حل نہیں نکالا جاسکتا بصورت دیگر سنگین خشک سالی ، سمندروں کی سطح بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلی کی دیگر صورتوں میں نمودار ہو سکتی ہے، جن کا حل مشکل ہوگا۔
فرانسیسی میڈیا جان کیری کے اس بیان اس طرح دیکھ رہئے ہیں جبکہ نومبر میں اقوام متحدہ کے اْس اجلاس سے قبل سامنے آنا خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے کیونکہ اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے متعلق معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کا مقصد عالمی تپش کو صنعتی دور سے قبل کی دو ڈگری سینٹی گریڈ کی سطح پر رکھنے کی تگ و دو کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے موسمیاتی تبدیلی کے حل کو اولیت کا درجہ دے رکھا ہے، حالانکہ اِسے ریپبلکن اکثریت والی امریکی کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہے۔فرانس میں موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کی شرکت بھی متوقع ہے کیونکہ دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہ اس کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔