13 اکتوبر 2014
وقت اشاعت: 16:33
اسپین: ایبولا کی شکار نرس کے پالتو کتے کی موت پر احتجاج،2زخمی
بارسلونا.........شفقت علی رضا.........اسپین میں محکمہ صحت کے حکام کی طرف سے ایبولا کی شکار نرس کے پالتو کتے کو موت کی نیند سلانے پر جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والےکارکنوں نے احتجاج کیا ہے۔جب پولیس ایبولا کی شکار’’ ٹیریسا رومیرو ‘‘نامی نرس کے گھر سے پالتو کتا لینے کے لیے پہنچی تو وہاں موجود کارکنوں نے پولیس سے ہاتھا پائی کی۔ رومیرو کے پالتو کتے ’’ایکس کیلیبر‘‘ کے بارے میں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ایبولا سے متاثر تھا یا نہیں اور آیا وہ اس بیماری کو پھیلانے کا باعث بن سکتا تھا، لیکن اس کے باوجود عدالت نے اسے بغیر تکلیف کے ہلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ گزشتہ روز جانوروں کے حقوق کے کارکن رومیرو کے گھر کے سامنے جمع ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے قاتل، قاتل کینعرے بازی کی۔ذرائع کے مطابق کتے کو لے جانے والی گاڑی کو روکنے کے دوران دو کارکن زخمی ہوئے۔ رمیرو کے شوہر نے کتے کے کیس کے بارے میں جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کو خبردار کیا تو اس پر سوشل میڈیا پر ہل چل مچ گئی اور لوگوں نے اس کیس میں کافی دلچسپی لی۔ خیال رہے کہ ایبولا وائرس سے متاثرہ نرس ٹریسا کو میڈرڈ میں علیحدہ رکھا گیا ہے اور ان کے شوہر سمیت 50دیگر افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف دارالحکومت میڈریڈ میں واقع ایبولا وائرس کے حوالے سے مشہور اسپتال ’’کارلوس تھری‘‘کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتال کا ڈھانچہ ایسا نہیں ہے جس کو ایبولا کے اعتبار سے ڈیزائن کیا گیا ہو۔اس بات کا انکشاف ایک یورپین ماہرین کی ٹیم نے کیاجو اسپتالوں میں بیماریوں کی روک تھام کے بارے میں مہارت رکھتی ہے۔ماہرین کے گروپ نے گزشتہ دنوں میڈرڈ میں واقع کارلوس تھری اسپتال کی انسپکشن کی۔اسپین کے وزیراعظم ماریانو روخوئی نے بھی چند روز قبل اسپتال کا دورہ کیاتھا۔اسپتال کے دورے کے دوران وزیراعظم ماریا نوروخوئی نےاسپتال کے عملے سے ملاقات کی اور ایبولا وائرس سے متاثرہ نرس ٹریسا کے علاج معالجے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ تحقیقات جاری ہیں کہ کیسے یہ مرض اسپتال کی نرس کو لاحق ہو گیا ہے۔یادرہے کہ ا سپین کی وزارت صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایبولا کے دو مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والی ایک ہسپانوی نرس کو یہ مرض لاحق ہو چکا ہے۔اس نرس تریسا رومیروکے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ مغربی افریقہ سے باہر ایبولا کا شکار ہونے والی پہلی مریضہ ہیں۔