17 نومبر 2014
وقت اشاعت: 20:14
تھرپارکر:صاف پانی کی فراہمی ایک خواب
تھر پارکر...........تھر میں صاف پانی کی دستیابی تھری باشندوں کے لئے ایک خواب بن چکاہے۔ پیاسے تھری پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہےہیں۔ تھر کے صحرا میں غریبوں کی قسمت کو بدلنے کے وعدے کبھی پورے نہ ہوئے مگر پھر بھی زندگی جس حال میں تھی گزر ہی رہی تھی مگر مسلسل تیسرے سال پڑنے والے قحط نے تو علاقہ میں کیا انسان کیا حیوان ،سب کو ایک ہی قطار میں کھڑا کر دیا ہے۔ پیاس کی شدت نے انسان اور جانوروں کو ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے پہ مجبور کر دیا ہے۔ تھر میں اب زندگی دن بدن دشوار ہوتی جا رہی ہے حکومتی وزراء اورسیاستدانوں کی کارکردگی سول اسپتال اور ڈی سی آفس جبکہ سماجی و فلاحی اداروں کا کام ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی تک محدود دکھائی دیتا ہے شاید انکی نظر میں تھر کا سارا قحط یہیں اتر آیا ہے جبکہ چھاچھرو،ڈیپلو اور ننگر پارکر کے سرحدی دیہات اور دور دراز کے وہ علاقے جو قحط سالی کے انتہائی متاثرہ ہیں کوئی توجہ دیتا نظر نہیں آتا۔در دراز کے علاقوں میں قحط کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتی جا رہی ہے متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر ان علاقوں پہ توجہ نہ دی گئی تو بدترین المیے جنم لے سکتے ہیں ۔