25 نومبر 2014
وقت اشاعت: 12:58
ذوالفقارکی ہلاکت ہیپاٹائٹس اورڈینگی بخار سے ہوئی، ملکی وعالمی ادارہ صحت
فیصل آباد......فیصل آباد الائیڈ اسپتال میں ایبولا کے مشتبہ مریض کےعلاج کے دوران عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کو نظر انداز کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ مریض کو دو دن تک ائیسولیشن وارڈ کی بجائے عام مریضوں کے ساتھ رکھا گیا ۔دوسری جانب محکمہ صحت اورعالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ذوالفقارکی ہلاکت کی وجہ ہیپاٹائٹس اورڈینگی بخار ہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے پوری دنیا کو ایبولا جیسی مہلک اور لاعلاج بیماری کے خطر ے سے آگاہ کرتے ہوئے، اس بیماری کے خلاف حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی ،جن کے مطابق پاکستان کے اسپتالوں کو پابند کیا گیا تھا کہ ہمیرج فیور کے ساتھ اسپتال آنے والے کسی بھی مریض کا سب سے پہلے ایبولا ٹیسٹ کرایا جائے ،لیکن چنیوٹ سے تعلق رکھنےو الے ذوالفقار علی کو بائیس نومبر کو الائیڈ اسپتال منتقل کیا گیا تو ڈاکٹروں نے اسکی ظاہری علامات پر اسے ایبولا کا مشتبہ مریض قرار دے دیا ،لیکن دو دن تک آئیسولیشن وارڈ میں منتقل کرنے کی بجائے عام مریضوں کے ساتھ اس کا علاج کیا گیا اور اس کے خون کے نمونے داخلے کے دو دن بعد اسلام آباد بھیجے گئے، جبکہ اسکی لاش ورثا کے حوالے کی گئی تو بھی آئسولیشن کاخیال نہیں رکھا گیا ۔دوسری جانب محکمہ صحت اورعالمی ادارہ صحت نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ ذوالفقارکی ہلاکت کی وجہ ہیپاٹائٹس اورڈینگی بخار ہے۔اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ ذوالفقارمغربی افریقہ کے ملک ٹوگوسے آیا تھا،جہاں ایبولا وائرس کا کوئی کیس موجود نہیں۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم ذوالفقار کے اہلخانہ کا بھی ٹیسٹ کرے گی۔ ذوالفقار علی روزگار کے سلسلے میں ساڑھے تین سال سے افریقہ میں مقیم تھا۔ وہ طبیعت کی ناسازی کے باعث 16نومبر کو واپس وطن پہنچا ۔ چند روز گھر میں گزارے اور پھر الائڈ اسپتال فیصل آباد منتقل کردیا گیا۔