تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
27 نومبر 2014
وقت اشاعت: 1:17

انسداد پولیو ٹیم پر حملے، دو سال میں 60 رضاکار اور اہل کارہلاک

کراچی ......انسداد پولیو ٹیم پریہ حملہ پہلا واقعہ نہیں،ملک میں اس مہم میں حصہ لینے والے رضاکار دہشت گردوں کا آسان ہدف رہے،اب تک ساٹھ سے زیادہ پولیو ورکر اور ان کی سیکیورٹی پر مامور اہل کارجان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔پولیو کے خلاف جنگ لڑنے والے رضاکار پہلی بار دہشت گردوں کا نشانہ نہیں بنے،قوم کے مستقبل کو اپاہج ہونے سے بچانے والوں کو کئی بار اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے،گزشتہ دو سالوں سے پولیو مہم میں حصہ لینے والے اپنی جان ہتھیلی پر لے کر نکل رہے ہیں۔اور کئی جان گنوا چکے ہیں ۔19 دسمبر 2012 میں کراچی کے علاقے گلشن بونیر میں حملہ کرکے دو پولیو ورکروں کو جاں بحق کردیا گیا۔16 جون2013 میں خیبر پختون خوا کے ضلع صوابی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے میں دو رضاکار جاں بحق ہوئے۔30 نومبر 2013 میں پشاور میں انسداد پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور اہل کاروں پر حملہ کیا گیا، جس میں ایک پولیس اہل کار جاں بحق،ایک زخمی ہوا۔13دسمبر 2013 میں خیبر ایجنسی میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کی گئی جس میں ایک رضا کار اور دو پولیس اہل کار جاں بحق ہوئے۔28 دسمبر 2013 میں پشاور میں پولیو ٹیم پر حملے میں ایک رضاکارجاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔21جنوری 2014 کراچی میں انسدادِ پولیو مہم کے کارکنوں پر حملے کے نتیجے میں دو خواتین سمیت تین افراد جاں بحق ہوئے۔25 فروری 2014 بلوچستان کے ضلع اواران میں انسداد پولیو مہم کے 5 اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔8 اکتوبر 2014 مہمند ایجنسی میں پولیو ورکرز پر حملہ ہوا ،جس میں ایک جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.