19 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 21:6
ایبولا نے دنیا بھر کے ممالک کو سرجوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کردیا
کراچی.........ایبولا وائرس کیا ہے، کتنے ممالک اس سے متاثر ہوئے اور اس سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ مغربی افریقہ میں ایبولا سے پھیلنے والی تباہی نے دنیا بھر کے ملکوں کو سرجوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کردیا اور آج اس وائرس کے پھیلاؤ کو کافی حد تک روکا جاچکا ہے، مگر اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے قائم کردہ صحت مرکز میں ایبولا سے متاثرہ افراد کو رکھا جاتا ہے۔ایبولا ایک انتہائی متعدی اور وبائی وائرس ہے ،جو افریقہ کے جنگلوں میں موجود فروٹ بیٹس یا پھل کھانے والی چمگادڑوں میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے اور تحقیق سے اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ان چمگادڑوں سے ہی یہ وائرس دوسرے جانوروںاور انسانوں میں منتقل ہے۔ ایبولا وائرس سے انسانوں کے متاثر ہونے کا پہلا کیس 1976ء میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگومیں سامنے آیا۔ جس کے بعد اس وائرس نے کئی بار مختلف افریقی ممالک میں سر اٹھایا۔ مگر مارچ 2014ء میں مغربی افریقہ میں اس وبائی بیماری نے سب سے زیادہ تباہی پھیلائی جس کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ تقریباً 7ہزار سے زائد افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 15ہزار سے زائد افراد کے متاثر ہونے کے کیس منظر عام پر آئے ہیں۔ پاکستان میں ایبولا کے تین مشتبہ کیس سامنے آئے جس میں ایک میں اس وائرس کی تصدیق نہیں ہوسکی جبکہ دو افراد کے خون کے نمونے تصدیق کے لیے عالمی ادارہ صحت بھجوائے گئے ہیں۔اس مرکز میں داخل ہونے کیلئے حفاظتی سوٹ پہنا ضروری ہے، یہ وائرس انتہائی متعدی ہے اس لیے متاثرہ فر د کو بالکل الگ رکھا جاتا ہے اور اس سے رابطے کےلیے معالج اور نرسوں کو اسی قسم کے حفاظتی سوٹ پہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ اس سوٹ کو بھی ہر ملاقات کے بعد کلورین اسپرے سے دھونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ایبولا وائرس فلو کی طرح ہوا سے تو نہیں پھیلتا لیکن یہ متاثرہ شخص کے خون، رطوبتوں، فضلے اور اس کے استعمال کی اشیاء سے دوسرے فرد کو ضرور منتقل ہوجاتا ہے۔اس لیے وائرس سے بچاؤ کےلیے متاثرہ شخص کی ان چیزوں سے بچنا بہت ضروری ہے لیکن اگر کوئی شخص ایبولا سے متاثر ہوجاتا ہے تو عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2سے 21دن کے دوران مرض کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ جس میں اچانک تیز بخار ہونا، تھکن، سر، پٹھوں میں درد، گلے کی سوزش، قے آنا، ڈائیریا، گردے او ر جگر کے افعال متاثر ہونا جبکہ کچھ مریضوں میں اندورنی اور بیرونی حصوں سے خون بہنا بھی شروع ہوجاتا ہے۔ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے ماہرین آگاہی پھیلانے، حفظان صحت کے اصولوں کو اپنانے اورصفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کو کافی اہم قرار دیتے ہیں۔