21 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 1:27
سرگودھا میں مرنے والے بچوں کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی
سرگودھا.........سرگودھا کے ڈی ایچ کیواسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت سے متعلق سیکریٹری صحت پنجاب نے رپورٹ پیش کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان بچوں کی قبل از وقت پیدائش ہوئی تھی،اسپتال میں مطلوبہ تعداد میں وینٹی لیٹر نہ تھے۔ غفلت کی ذمےداراسپتال انتظامیہ ہے۔ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال سرگودھا میں 15روز قبل بچوں کی اموات کے بعد والدین نے نوزائیدہ بچوں کو اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کروانابند کر دیا۔ سیکرٹری صحت پنجاب نے رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ بچوں کی اموات اسپتال میں سہولتوں کی کمی اور انتظامیہ کی غفلت سے ہوئی۔ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال سرگودھا کے انتہائی نگہداشت بچہ وارڈ میں ڈاکٹروں اور عملے کی غفلت کے باعث 21سے زائد بچوں کی اموات پندرہ روز قبل ہوئیں۔سپر یم کورٹ آف پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا۔ سیکرٹری صحت پنجاب جواد رفیق ملک نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسپتال کی ایڈمنسٹریشن کی غفلت اور عملے کی نااہلی کی وجہ سے واقعہ رونما ہوا وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر میڈیکل سپر نٹنڈنٹ ڈاکٹر اقبال سمیع کو معطل کر کے اس کے خلاف پیڈاایکٹ کے تحت کاروائی کی جارہی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ وقوعہ کے روز اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں 12بیڈ پر 50بچے زیر علاج تھے جن میں سے 18بچوں کو آکسیجن دی جارہی تھی۔ ونیٹلیٹرمقرر تعداد میں نہ ہونے کے باعث نان پروفیشنل طریقہ سے ایک ونیلیٹر سے چار بچوں کو آکسیجن دی جارہی تھی اوربیشتر بچوں کی پیدائش قبل ازوقت تھی اوران کاوزن بھی کم تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اسپتال کے ایمر جنسی وارڈمیں صحت کی بہتر سہولتیں بھی فراہم کر دی گئی ہیں اور مفت ادویات بھی دی جارہی ہیں۔