تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
2 جنوری 2015
وقت اشاعت: 13:22

2014 ء: پاکستان میں پولیو کے 295 کیس ، روز اضافہ جاری

اسلام آباد ..... سال 2014 میں ملک بھر سے پولیو کے 295 کیسز سامنے آئے اور ہر دن اضافہ جاری ہے ۔ دنیا بھر میں سامنے آنےوالےہر5 پولیو کیسزمیں سے4کاتعلق پاکستان سے ہے۔ پولیوفری پاکستان کاخواب آخرکیوں پورانہیں ہوا؟؟مشکلات کیاہیں ؟۔ پولیو وائرس نے پاکستان کے بچوں پر گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔ سال 2014 کی شروعات ہوئی توجنوری میں عالمی ادارہ صحت نے پشاور کو دنیا بھر میں پولیو وائرس کا گڑھ قرا ر دیا ، ہمسائیہ ملک افغانستان کے 13 پولیو کیسز کا جنیاتی تعلق بھی پشاور سے نکلا ۔ پولیو کی تشویش ناک صورت حال پر پاکستان دنیا کی نظرمیں کھٹکنے لگااورمئی 2014 میں عالمی ادارہ صحت کی کمیٹی نے پاکستان ،شام اورکیمرون کودنیا کوپولیو وائرس منتقل کرنے کا سبب قرار دیتےہوئے سفری پابندیوں کی سفارش کردی ۔ پاکستان کے ہوائی اڈوں اور اسپتالوں میں پولیو کاونٹرز بنے اور بیرون ملک جانےوالے مسافروں کے لئے ہیلتھ سرٹیفکیٹ لینا ضروری ٹھہرا ۔جون میں عالمی انڈی پنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان نے شام ، اسرائیل ،غزہ ، مغربی پٹی اور افغانستان کو پولیو وائرس منتقل کیا ۔نومبر میں بین الاقومی ہیلتھ ریگولیشن کمیٹی نے خبردار کیا کہ پاکستان عالمی سفارشات پرعمل درآمد نہیں کررہا، اس کےمسافروں کوبین الاقوامی ائیرپورٹس پر اسکریننگ کا سامنا کرناپڑ سکتاہے۔سربراہ عالمی ادارہ صحت پاکستان مائیکل تھیران کا کہنا ہے کہ حکومت نے بین الاقوامی دباو پر پولیو کی مانیٹرنگ کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایمرجنسی آپریشن سیل قائم کردیے، ان میں پولیومہمات کے دوران ڈیٹا اکھٹا کرنے اورہنگامی صورت حال پیش آنے پرحکمت عملی طے کی جاتی ہے۔پولیو مانیٹرنگ سیل کے مطابق کراچی،کوئٹہ اور فاٹا کے علاقے پشن اور قلعہ عبداللہ پولیو کے پھیلاو کا گڑھ بنے ہوئے ہیں۔تودوسری جانب پولیو ورکرز کی ٹارگٹ کلنگ نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیاکوہلاکررکھ دیا۔ ہائی رسک علاقوں میں پولیو مہمات معطل کی جاتی رہیں۔ فوکل پرسن انسداد پولیوعائشہ رضا فاروق نے کہا کہ ہمارے ورکرز کی کلنگ ہوتی رہی اور ہمارے لیے سب سے زیادہ افسوسناک ہے مگر ہمارے حوصلے پست نہیں ہوئے، ملک کے مختلف شہروں کے سیوریج نمونوں میں بار بار پولیو وائرس کی موجودگی نے مرض کےپھیلا و کاخطرہ بڑھائےرکھا۔2014 میں بھی پولیو سےپاک پاکستان کاسپنا توپورانہ ہوسکا تاہم شمالی وزیرستان کےآئی ڈی پیز بچوں کی پولیوویکسین تک رسائی خوش آئند ہے۔اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کا عزم تو حکام بارہا دہراتے ہیں لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پولیو ورکرز کی زندگیوں کو تحفظ نہیں دیا جاتا ۔ پو لیو پر بین الاقوامی سفری پابندیاں تو لگ چکیں تاہم ٹھوس اقدامات سے وائرس کی منتقلی کے سفر کو ضرور روکا جاسکتاہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.