تازہ ترین سرخیاں
 سائنس وٹیکنالوجی 
28 دسمبر 2011
وقت اشاعت: 8:14

چینی سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم فعال ہو گیا

چینی سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم نے چین اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں اپنے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے۔ بیڈو کہلانے والے اس نیویگیشن سسٹم کا مقصد اس شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار ختم کرنا ہے۔


چینی حکام کے بقول ملک کے سیٹلائٹ نیویگیشن ادارے نے اس امر کی تصدیق کر دی ہےکہ بیڈو نامی اس نظام نے مؤثر طور پر اپنا کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ فی الحال یہ نظام صرف مخصوص علاقوں کے بارے میں ہی معلومات فراہم کر رہا ہے تاہم جلد ہی چینی ماہرین کی طرف سے بنایا گیا یہ نظام ملک بھر میں موسم، نقشوں اور راستوں، ماہی گیری، مواصلات اور ٹیلی کمیونیکیشن کے بارے میں مفصل معلومات فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

چین نے اپنا سیٹلائٹ نیویگیشن نظام بنانے کے لیے کام 2000 ء میں شروع کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت بیجنگ حکومت کی طرف سے مجموعی طور پر 35 مصنوعی سیارے خلا میں چھوڑے جائیں گے، جو ایک مربوط اور مؤثر نیویگیشن سسٹم کی بھرپور کارکردگی کو یقینی بنانے میں مدد دیں گے۔ چینی ماہرین نے اس مقصد کے لیے اپنا پہلا سیٹلائٹ سن 2007 میں خلا میں چھوڑا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ چین اس سسٹم کے لیے اب تک کتنے سیٹلائٹ خلا میں بھیج چکا ہے اور م‍زید کتنے عنقریب روانہ کیے جائیں گے۔
چینی حکام کے بقول 2020ء تک چینی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ یہ نیویگیشن سسٹم پوری دنیا کو اپنی سروسز پیش کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ چینی ماہرین 2012ء کے آخر تک مزید چھ مصنوعی سیارے خلا میں روانہ کریں گے، جن کی مدد سے یہ پوزیشننگ سسٹم ایشیا اور بحرالکاہل کے کئی دیگر علاقوں کے لیے بھی فعال ہو جائے گا۔

چین اب تک مصنوعی سیاروں کی مدد سے نیویگیشن کے لیے گلوبل پوزیشننگ سسٹم GPS کی سروسز استعمال کر رہا تھا اور یہ عمل ابھی تک جاری ہے۔ یہ نظام امریکہ کا تیار کردہ ہے اور اسے کنٹرول بھی امریکی ماہرین ہی کرتے ہیں۔ اسی لیے چین میں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ GPS کی وجہ سے مستقبل میں ملک کی حساس عسکری تنصیبات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہی خدشات کے تدارک کے لیے چین نے اپنا نیویگیشن سسٹم تیار کیا ہے۔

چینی سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کے نگران ادارے سے وابستہ ایک اعلیٰ اہلکار ران چینگ چی کے بقول بیجنگ کا تیار کردہ یہ نیویگیشن سسٹم ایسا بہترین نظام ہے، جو ایسے دیگر نظاموں کا اچھی طرح مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چینگ چی نے چین میں اور بیرون ملک مقیم چینی ماہرین پر زور دیا کہ وہ اپنے وطن میں تیار کردہ اس نئے نیویگیشن نظام کو مزید بہتر بنانے میں متعلقہ حکام کا ساتھ دیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.