12 نومبر 2011
وقت اشاعت: 10:52
چلّی میں وہیل مچھلیوں کا قبرستان دریافت
چلی سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں اور امریکی ماہرین نے وہیل مچھلیوں کے ستر لاکھ سال پرانے فوسلز دریافت کیے ہیں۔
چلی کے دارالحکومت سانتیاگو سے پانچ سو چالیس میل دور شمال میں واقع اٹاکاما نامی اس مقام سے اب تک اسّی وہیل مچھلیوں کے فوسلز یا بقایاجات مل چکے ہیں جو کہ فوسلز ماہرین کے نزدیک ایک حیران کن امر ہے۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک ہی مقام سے اتنی بڑی تعداد میں فوسلز دریافت کیے گئے ہیں۔
ماہرین کو ملنے والے فوسلز میں سے کچھ مکمل ڈھانچے ہیں جن کے ذریعے فوسلز پر تحقیق کے میدان میں نئی راہیں کھلنے کا امکان ہے۔ ایسے ہی ڈھانچوں میں میوسین دور کے ایک نر، مادہ اور بچہ وہیل پر مشتمل خاندان کے ڈھانچے بھی شامل ہیں۔
جس مقام سے یہ فوسلز دریافت ہوئے ہیں وہ ایک ساحلی گاؤں کے نزدیک واقع ہے اور مقامی لوگ اسے ایک عرصے سے ’وہیل پہاڑی‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
اس فوسل سائٹ پر کام کے نگران جان ویگا کا کہنا ہے کہ ’ پندرہ دن میں ہمیں پندرہ وہیل مچھلیوں کے بقایاجات ملے ہیں ۔ ایک جگہ سے اتنے سارے فوسلز کا ملنا غیر متوقع ہے جس پر ہم حیران ہیں‘۔
وہیل مچھلیوں کے فوسلز کی اس دریافت کو فوسلز پر کام کرنے والے عالمی ماہرین بہت اہم قرار دے رہے ہیں ۔ ان کے مطابق آج تک ایک جگہ سے اتنی زیادہ تعداد میں مختلف اقسام کی وہیل مچھلیوں کے فوسلز نہیں ملے ہیں۔
ان فوسلز پر کام کرنے والی ٹیم کے سربراہ مارٹن سواریز کے مطابق ’ یہ مقام بہت زرخیز ہے اور یہاں سے ہمیں وہیل مچھلیوں کی نئی اقسام بھی ملی ہیں‘۔
چلی کی حکومت نے اس مقام سے ملنے والے فوسلز کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک نیا عجائب گھر بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں وہیل مچھلیوں کے ڈھانچوں کے علاوہ یہاں سے ملنے والے مگرمچھوں اور ڈولفن مچھلیوں کے ڈھانچے بھی رکھے جائیں گے۔