12 جنوری 2012
وقت اشاعت: 8:34
گوگل سرچ میں تبدیلی پر ٹوئٹر کی تنقید
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے گوگل کی جانب سے اپنے سرچ انجن میں تبدیلی لاتے ہوئے اس میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ گوگل پلس ضم کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انٹرنیٹ کے مقبول سرچ انجن گوگل میں ایک نئی خصوصیت’سرچ پلس یور ورلڈ‘ کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ مطلوبہ نتائج کے حوالے سے صارفین کو خودکار طریقے سے گوگل پلس کی جانب لیجاتی ہے۔
گوگل کے اس قدم کو ٹوئٹر کے وکیل ایلکس میکگلیورے نے انٹرنیٹ کے لیے ایک برا دن قرار دیا ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’انٹرنیٹ کے لیے ایک برا دن ہے، وہاں موجود ہوتے ہوئے میں یہ تصور کر سکتا ہوں کہ گوگل پر ردو بدل کرتے ہوئے تلاش یا سرچ کو دوسری جانب موڑا جا رہا ہے۔‘
ٹوئٹر کے وکیل کے مطابق گوگل کی جانب سے حالیہ تبدیلیوں نے سرچ یا ویب صفحات کی تلاش میں بہت زیادہ نجی کر دیا ہے جس میں پہلے ہی تلاش کیے گئے صفحات کی تاریخ یا ریکارڈ رکھنے کی صلاحیت موجود تھی۔
ٹوئٹر نے اپنے باضابطہ سرکاری بیان میں کہا ہے کہ ’انٹرنیٹ کے صارفین جب بھی دنیا میں بڑے ایونٹس یا بریکنگ نیوز کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ٹوئٹر فوری معلومات کے لیے ایک اہم ذریعے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا اور اس کے صارفین کی تعداد دس کروڑ تک پہنچ گئی جب کہ اس پر روزانہ ہر طرح کے موضوع سے متعلق پچیس کروڑ پیغامات جاری کیے جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم نے مختلف اوقات میں دیکھا کہ ٹوئٹر پر سب سے پہلے خبر جاری یا بریک ہوئی اور اس کی وجہ ٹوئٹر اکاؤنٹس یا پیغامات کا تقریباً سب سے زیادہ درست نتائج فراہم کرتا ہے۔‘
پیغام میں مزید کہا گیا کہ’ہمیں گوگل میں کی جانی والی تبدیلیوں پر تشویش ہے اور کسی کے لیے معلومات کو تلاش کرنا بہت زیادہ مشکل ہو جائے گا اور ہمارے خیال میں یہ عام لوگوں، ناشرین، ذرائع ابلاغ کے اداروں اور ٹوئٹر کے صارفین کے لیے ایک بری چیز ہے‘۔
دوسری جانب سے گوگل نے ایک بیان میں ٹوئٹر کی تنقید پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمیں ٹوئٹر کے بیانات پر تھوڑی حیرانی ہوئی ہے کیونکہ اس نے گزشتہ سال موسم گرما میں گوگل کے ساتھ اپنے معاہدے کی تجدید کرنے سے انکار کر دیا تھا‘۔
گوگل کی خاتون ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’اس وقت سے ہم دیکھ رہے کہ کس طرح ٹوئٹر نے گوگل کے لیے مشکل کھڑی کی جس کے تحت ٹوئٹر کی معلومات تک رسائی کو مشکل بنا دیا گیا۔ ‘
خیال رہے کہ گوگل کی سماجی رابطے کی مقبول عام ویب سائٹ فیس بک پر برتری حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اس نے طے کر رکھا ہے کہ وہ گوگل پلس کے ذریعے فیس بک کا مقابلہ کرے گا۔
گوگل کے اہلکار امیت سینگال نے کمپنی کے آفیشل بلاگ میں لکھا ہے کہ ’سرچ ایک حیران کن صلاحیت ہے جس میں اربوں صفحات، تصاویر، ویڈیوز، خبروں اور دیگر مواد میں سے اپنے مطلوبہ نتائج تلاش کرنا سوئی تلاش کرنے کے مترداف ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ ’واضح طور پر یہ ناکافی ہے اور ہمیں اس قابل بھی ہونا چاہیے کہ ایک سرچ باکس کے تحت ہم اپنا مواد ویب پر تلاش کر سکیں، ان لوگوں کا جن کو ہم جانتے ہیں اور وہ معلومات یا مواد جو انھوں نے آپ کے ساتھ شیئر کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جن کے بارے میں آپ جانتے تو نہیں لیکن ان کو جاننا چاہتے ہیں‘۔