تازہ ترین سرخیاں
 سائنس وٹیکنالوجی 
28 نومبر 2011
وقت اشاعت: 8:11

کوریا میں اب ربوٹس قیدیوں کی نگرانی کریں گے

جنوبی کوریا کی جیلوں میں قیدیوں کی نگرانی کے لیے اہلکاروں کے ساتھ روبوٹس کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

مارچ میں پوہانگ شہر کی جیل میں تجرباتی طور پر تین روبوٹس کو ایک ماہ کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
روبوٹس جیل میں قیدیوں کی خلافِ معمول رویے پر نظر رکھیں گے۔

پانچ فٹ قد کے یہ تین روبوٹس جنوبی کوریا کی کمپنی ایشن فورم فار کوریکشنز نے تیار کیے ہیں۔

یہ کمپنی جرائم اور قیدیوں کے متعلق پالیسز تیار کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ روبوٹس چار پہیوں پر چلیں گے اور ان میں کیمرے اور سینسر جیسے دیگر آلات نصب ہونگے اور یہ تشدد، خودکشی کرنے جیسے خطرناک رویوں پر نظر رکھ سکیں گے۔

روبوٹس کے ڈیزائن کے سربراہ پروفیسر لی بیک چو کا کہنا ہے کہ روبوٹس کوئی مسئلہ نظر آنے پر انسانی اہلکاروں کو چوکنا کریں گے۔

خبر رساں ادارے یوناپ سے بات کرتے ہوئے انھوں کہا ہے کہ’روبوٹس کے مرکزی سسٹم کو مکمل کر لیا گیا ہے اور اب اس کو بہتر کرنے پر کام کیا جا رہا ہے تاکہ یہ قیدیوں کو زیادہ دوستانہ لگیں۔

روبوٹس کے ایک ماہ کے تجربے پر تقریباً پانچ لاکھ چون ہزار ڈالر کا خرچ آئے گا جو حکومت برداشت کرے گی۔

حکومت ملک میں روبوٹس کی انڈسٹری کو فروغ دینے سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ جنوبی کوریا کو ربورٹ سازی کی صنعت کو دنیا میں مرکزی حثیت دی جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سال دو ہزار دو سے دو ہزار دس تک اس شعبے میں اکتالیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی چکی ہے۔

جنوبی کوریا میں دفاعی مصنوعات تیار کرنے والے کمپنی ڈوڈیم ایک ایسے روبوٹ کی تیاری پر کام کر رہی ہے جو خود کار طریقے سے فائرنگ شروع کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ جنوبی کوریا کے بعض سکولوں میں پہلے سے روبوٹس موجود ہیں جو بچوں کو انگلش زبان کی سکھانے میں ٹیچرز کی مدد کرتے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.