25 فروری 2011
وقت اشاعت: 11:21
سورج کی سرگرمی، انسانی ٹیکنالوجی کو نقصان کا اندیشہ
امریکی سائنسدانوں نے مستقبل قریب میں سورج کی سرگرمی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے جس سے سورج کی سطح پر بڑے بڑے طوفان اٹھنے کا خدشہ ہے جس سے نہ صرف زمین پر موجود حساس الیکٹرانک آلات بلکہ خلا میں موجود مصنوعی سیاروں پربھی خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں?حال ہی میں شمسی طوفانوں کے اثرات کا جائزہ لینے اور تدارک پرغور کے لیے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جمع ہونے والے سورج پر تحقیق کرنے والے کئی نامور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شمسی طوفان دراصل سورج کی سطح پر موجود مخصوص حصوں ، جنہیں ” سن اسپاٹس“ کہا جاتا ہے، کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں جس سے سورج کی سطح پر بڑ ے بڑے شعلے اٹھتے ہیں اور اس دوران برقی طور پر چارج شدہ ذرات خلا میں پھیل جاتے ہیں? سائنسدانوں کے مطابق سورج کی اس سرگرمی میں اضافہ عمومی طور پر ہر 11برس بعد ہوتا ہے تاہم اس مرتبہ لمبے عرصے بعد اس سرگرمی میں اضافے کی توقع کی جارہی ہے? ناسا کے سورج سے متعلق تحقیقی مرکز ہیلیو فزکس ڈویژن کے سربراہ رچرڈ فشر نے مزید کہا ہے کہ سورج ایک لمبی غنودگی کے بعد بیدار ہورہا ہے اور اگلے چند سالوں میں شمسی سرگرمیوں میں کافی اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے?فشر کے مطابق اس دوران تیار کی جانے والی ہماری ترقی یافتہ ٹیکنالوجی شمسی طوفانوں سے بہت زیادہ متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے?ان دو خطرات کا یکجا ہونا دراصل وہ مسئلہ ہے جس پر غور کے لیے سائنسدان جمع ہوئے ہیں? سائنسدانوں کے مطابق شمسی طوفان زمین پر موجو د حساس الیکٹرونک آلات کے علاوہ خلا میں موجود مصنوعی سیاروں کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں?