30 مارچ 2015
وقت اشاعت: 3:15
ورلڈ کپ میں سرفراز کو کھیلانے کا فیصلہ شہریارخان کے فون سے ہوا تھا
جیو نیوز - کراچی.... رفیق مانگٹ.... بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کرکٹ ورلڈ کپ میں سرفراز کو کھیلانے کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے سخت فون کی وجہ سے ہوا تھا۔ چیئرمین نے نوید اکرم چیمہ کو سرفراز کو کھیلانے کے فون پر سخت احکامات دیئے، جس کے بعد آخر کار کراچی سے تعلق رکھنے والے وکٹ کے پر اور بلے باز سرفراز احمد ٹورنامنٹ کو ورلڈکپ میں کھیلنے کا موقع دیا گیا۔ پی سی بی چیئرمین کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بھارتی خبر رساں ادارے نے لکھا ہے کہ ہیڈ کوچ وقاریونس اور کپتان مصباح الحق نے ورلڈکپ کے پہلے چار میچوں میں سرفراز کو کھیلانے سے یکسر انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد شہریار نے اپنے ضبط کا بندھن توڑا اور مینجر نوید اکرم چیمہ کو فون کیا۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ شہریار نے مینجر پر واضح کیا کہ اوپنر ناصرجمشید کی مسلسل ناکامی کے بعد اب سرفراز احمد کو نہ کھیلانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا اور یہ معاملہ سیاسی رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔ شہریار نے واضح کیا کہ ملکی سطح پر یہ احساس مضبوطی پکڑ رہا ہے کہ سرفراز کی مسلسل بے دخلی کراچی اور لاہور کے درمیان کرکٹ کی وجہ سے پایا جانے والا تناو ہے۔ اگرچہ وقار اور مصباح نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ سرفراز کو موقع دینے کا فیصلہ کرکٹ کی ضرورت ہے، جب کہ حقیقت یہ تھی کہ چیئرمین نے واضح الفاظ میں چیمہ کو کہہ دیا تھا کہ میرا حکم ہے کہ سرفراز کو اگلا میچ کھیلایا جائے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں سرفراز کا بہترین آغاز کپتان اور کوچ کو شرمندہ کرگیا۔ رپورٹ کے مطابق ناصر جمشید کی متحدہ عرب امارات کے خلاف ناقص کار کردگی پر شہریار انتہائی غصے میں تھے، انہوں نے چیمہ کو کہا کہ وہ وقار اور مصباح کو احمقانہ پن ختم کرنے کی ہدایت کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسینو واقعے میں معین خان کو پاکستان بلانے کی وجہ بھی سرفراز احمد کو نہ کھیلانا تھی۔ کیونکہ چیف سلکیٹر معین خان کپتان اور کوچ کا ساتھ دے رہے تھے۔ محمد حفیظ کے زخمی ہونے اور وطن واپس آنے کے بعد شہریار نے معین کو کہا تھا کہ وہ اوپنر کے لئے سمیع اسلم ،بابر اعظم ،اظہرعلی اور سعید اجمل میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں مگر معین ناصرجمشید پر ہی بضد رہے۔ معین نے کہا کہ تینوں کا ناصرجمشید کو بلانے پر اتفاق ہے، جب کہ چیئرمین نے واضح بھی کیا کہ تین سال قبل بھارت میں دو سو رنز کے سوا عملی طور پر ناصر کی بلے بازی کچھ بھی نہیں رہی۔ معین کو چیف سلیکٹر سے ہٹانے کی ایک یہ بھی وجہ تھی۔ معین نے کراچی میں پی سی بی کے سربراہ سے ملاقات میں دعویٰ کیا تھا، کہ وہ ناصر کے بجائے سرفراز کو کھیلانا چاہتے تھے، مگر وقار اور مصباح کے اکثریتی فیصلے کے ساتھ جانا پڑا۔ تاہم شہریار نے جواب دیا بطور چیف سلیکٹر ٹیم کے لئے بہترین انتخاب آپ کا فرض تھا، کپتان اور کوچ کے دباو میں آپ کو نہیں آنا چاہیے تھا۔ ٹورنامنٹ کے دوران ورلڈ کپ میچوں کے لئے سرفراز کے دیر سے کھیلانا پاکستان میں زیر بحث رہا۔