5 مارچ 2011
وقت اشاعت: 20:48
قومی ایئر لائن کے ملازمین کی ہڑتال، کئی پروازیں منسوخ
جنگ نیوز -
کراچی...ترک ائیرلائن کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے خلاف پی آئی اے ملازمین کی نمائندہ تنظیموں کے اتحاد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر امریکا اوریورپ کے فضائی روٹس ترکش ایر لائن کودیے جانے کے معاہدے کے خلاف آج ہڑتال اوراحتجاجی مظاہرے جاری ہیں،مظاہروں اور ہڑتال کے باعث فلائٹ شیڈول شدیدمتاثر ، ہورہے ہیں اورکئی ملکی و بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہوگئیں،قومی ایرلائن کے ملازمین نے کراچی ،اسلام آباد اورپشاور میں شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر رینجرز کے دستے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیرپورٹ اسلام آباد پہنچ گئے۔پی آئی اے کے ملازمین کی مختلف تنظمیوں کی جانب سے ہڑتال کے باعث منگل کی صبح سے ہی ائیرپورٹ سے کوئی فلائٹ روانہ نہیں ہو سکی جبکہ لینڈ کرنے والی بین الاقوامی پروازوں کے مسافروں کو کئی گھنٹے ائیرپورٹ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پی آئی اے کے ملازمین نے ائیرپورٹ اور مال روڈ راولپنڈی میں اپنے دفاتر بند رکھے،مال روڈ راولپنڈی اور ایر پورٹ پرٹکٹوں کی بکنگ کے دفاتربھی بند کر دیئے گئے۔جبکہ ائیرپورٹ پر بھی کوئی کام نہیں کیا ۔پی آئی اے کے ملازمین دن بھر وقفے وقفے سے مظاہرے کرتے رہے۔ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر رینجرز کے دستے ائیرپورٹ پر پہنچ گئے ہیں ۔ کراچی میں پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ترکش ایر لائن سے معاہدے کے خاتمے اور ایم ڈی پی آئی اے کیپٹن اعجاز ہارون کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیاہے ۔ بے نظیر بھٹو ایر پورٹ اسلام آباد پرملازمین جہازوں کے ہینگرز کے سامنے موجود ہیں۔ احتجاج کے سبب اسلام آباد سے استنبول ، بنکاک ، برمنگھم اور دبئی جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئیں،کراچی جانے والی پرواز کے مسافروں نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے لاوٴنج کے شیشے توڑدیے۔پشاور میں پی آئی ملازمین نے ارباب روڈ پر واقع پی آئی اے ریزرویشن دفتر کو بندکردیا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایم ڈی اعجاز ہارون کے آنے کے بعد پی آئی اے کا خسارہ دگنا ہوگیا ہے۔ جی ایم آپریشنز کیپٹن قاسم حیات نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہاہے کہ وہ ملازمین تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔