14 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 8:3
کراچی پچاس سال بعد سمندر برد ہوجائے گا....!!
جیو نیوز - کراچی......ساگر سہندڑو......حکومتی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ آنے والے پچاس سالوں میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہر سمندربرد ہوجائیں گے۔ کیا واقعی2070ء تک کراچی ، ٹھٹھہ، بدین اور ساحلی پٹی پر واقع دیگرشہر اور گاؤں سمندر کی نظر ہوجائیں گے؟
سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سمندر کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سمندری پانی 80کلو میٹر تک اوپر آچکا ہے ، اس وقت سمندر کی سطح بلند ہونے کی سالانہ رفتار 3.1ملی میٹر ہے اور اگر یہی رفتار رہی تو 2070ء تک کراچی اور بلوچستان میں موجود دفاعی تنصیبات بھی سمندر ی پانی میں ڈوب جائیں گی۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ای او ( یونائٹڈ نیشنزانوائرومنٹ پروگرام ) کی اوشین کوسٹل ایریا ( او اے سی ) کی 1989ء کی رپورٹ میں پاکستان کو پہلے ہی ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جن میں سمندر کی سطح بڑھ رہی ہے لیکن حکومت نے سطح سمندر کوروکنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ اب تک سندھ کی 350اور بلوچستان کی 750کلومیٹر زمین سمندر برد ہوچکی ہے ۔سینیٹر تاج حیدر کے مطابق اب تک سندھ کی 24لاکھ ایکڑ زمین سمندر برد ہوچکی ہے لیکن فشر فوک فورم کے مطابق 1956ء سے اب تک سمندر سندھ کی 35لاکھ ایکڑ زمین نگل چکا ہے۔
این آئی او یعنی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی کے مطابق سطح سمندر کی رفتار تین ملی میٹر سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نے پاکستان وژن 2025ء میں اس منصوبے کو شامل نہیں کیا۔ پاکستان نیوی کے مطابق سمندر میں دریا کا تازہ پانی نہ چھوڑنے سمیت دیگر اسباب کی وجہ سے ساحلی پٹی پر واقع علاقوں میں سمندر کی سطح بلندہو رہی ہے جس پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان فشرفوک کے چیئرمین محمد علی شاہ نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سمندر میں کراچی کے 12مختلف نالوں کے ذریعے صنعتوں اورگھروں کا 500ملین گیلن گندا پانی چھوڑا جا رہا ہے۔کراچی کا 30فیصد زہریلا پانی لیاری ندی جبکہ 25فیصد سے زائد گندا پانی ملیر ندی سے سمندر میں چھوڑا جا رہا ہے۔
کراچی میں جمع ہونے والا 37ہزار ٹن کچرا بھی کے ایم سی انتظامیہ سمندر کنارے اور ندی نالوں میں پھینک دیتی ہے۔ زہریلے پانی اور کچرے کو صحت مند بنانے کے لئے لگائے گئے دو ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی سالوں سے بند پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے گندگی اورزہریلے پانی کے باعث سمندر کا’ بلو واٹر‘۔۔’ بلیک واٹر‘ میں تبدیل ہورہا ہے۔
فشر فوک فورم کے چیئرمین کے مطابق انوائرومینٹل ایکٹ 1979ء کے تحت واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو شہر بھر میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے تھے جن کے ذریعے شہر کا زہریلا پانی اور کچرا ٹریٹمنٹ کے بعد سمندر میں چھوڑا جانا تھا لیکن آج تک شہر میں ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگائے گئے جبکہ ماڑی پور اور محمود آباد میں موجود ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی بند پڑے ہیں۔
کے پی ٹی، فش ہاربراور پورٹ قاسم پر بحری جہازوں کی آمد و رفت اور ان کے زہریلے اخراج سے وہاں کاسمندری پانی ’بلیک واٹر‘ میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ کلفٹن، ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ اور بھینس کالونی سمیت دیگر جگہوں پر سمندر کنارے ، نالیوں اور ندیوں کے ذریعے سمندر میں جانے والے کچرے کے باعث لاکھوں افراد جلد، سانس اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
فشر فوک فورم کے مطابق سمندر کا پانی زہریلا ہونے اور سمندر کی سطح بڑھنے کے باعث یومیہ 100 ایکڑ زرعی زمین سمندر برد ہو رہی ہے جبکہ کراچی سمیت بدین، ٹھٹھہ اور ساحلی پٹی پر رہنے والی 30لاکھ آبادی اس وقت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے سمیت اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہے۔
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا ) کی جانب سے 2004 میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق یومیہ پانچ ہزار کیوسک دریائی پانی سمندر میں چھوڑنا لازمی ہے لیکن ملک میں پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہونے کی وجہ سے یومیہ پانچ ہزار کیوسک پانی سمندر میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ آبی ماہرین اور کمیٹی کے ممبران کا کہنا ہے کہ سالانہ 25ایم ای ایف پانی سمندر میں چھوڑے جانی والی مقدار مناسب نہیں ہے۔
سمندر میں بڑھتی ہوئی آلودگی ایک طرف جہاں تمر کے جنگلات اور سمندری مخلوق کے ختم ہونے کا سبب بن رہی ہے وہیں سمندر میں دریا کا پانی چھوڑنے کے باعث سمندر کی سطح بھی بڑھ رہی ہے جو آنے والے پچاس سالوں میں کراچی، بدین، ٹھٹھہ اور دیگر چھوٹے دیہات کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔