تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
15 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 10:59

قصبے اور دیہات نقشے سے مٹ گئے،پتھرائی ہوئی نقشہ بی بی رہ گئی

جیو نیوز - اسلام آباد......جویریہ صدیق......8اکتوبر2005ء کے قیامت خیز زلزلے کو 10سال گزر گئے لیکن اس کے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے۔اس زلزلے کے کبھی نہ مٹنے والے نقوش میں ایک نقش ایسا بھی ہے جو کئی ایک دیہاتوں اور قصبوں کے صفحہ ء ہستی سے نابود ہو جانے کے باوجود نہیں مٹا۔ وہ ہے زلزلے کے 63روز گزرجانے کے بعد ملبے سے ملنی والی نقشہ بی بی۔

نقشہ بی بی زلزلے کے دوران کچن میں ملبے تلے دب گئی تھی۔رشتہ دار یہی سمجھے کہ وہ یا تو جاں بحق ہو چکی ہے یا کسی ریلیف کیمپ میں ہو گی۔تاہم قدرت کا کرشمہ یہ ہوا کہ وہ دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملبے سے زندہ سلامت نکل آئی۔پہلے اسے مظفر آباد منتقل کیا گیا اور پھر اسلام آباد پمز میں داخل کیا گیا۔اب وہ ایدھی سینٹر میں رہتی ہے۔

اتنے دن ملبے تلے دبے رہنے کی وجہ سے نقشہ بی بی کے اعصاب اور ذہنی صحت متاثر ہوئی ہے اوراس کا وزن صرف پینتس کلو رہ گیا تھا۔وہ چلنے پھرنے کے بھی قابل نہ تھی۔ اس کی بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت پربھی اثر پڑا۔ڈاکٹرز کی انتھک محنت کے بعد نقشہ نے اپنی بات اشاروں میں سمجھانا شروع کردی اور چلنا بھی شروع کردیاتھا۔

لیکن افسوس نقشہ کے زیادہ تر رشتہ دار اس سانحے میں چل بسے تھے۔ بوڑھے باپ جس کی ٹانگ زلزلے کے بعد ڈاکٹرز نے اس کی جان بچانے کی خاطر کاٹ دی تھی اور غریب بھائی نے اس کی دماغی صحت کی خرابی کی بنا پر اسے اپنانے سے انکار کردیا۔

نقشہ سے پہلی ملاقات اسپتال میں ہوئی اور دوسری ملاقات اس وقت ہوئی جب اسے اسلام آباد ایدھی ہوم منتقل کردیا گیا۔ایدھی ہوم میں وہ صاف ستھرے کپڑوں میں چلتی پھرتی دکھائی دیتی۔ اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کھالیتی لیکن نہ تو وہ کسی بات کو سمجھ پاتی ہے اور نہ ہی جواب دے پاتی۔

2015ء مارچ تک نقشہ ایدھی ہوم اسلام آباد میں رہی ۔دو ہزار پندرہ آٹھ اکتوبر کو جب زلزلے کو دس سال مکمل ہوگئے تو نقشہ بی بی سے ملنے کی خواہش ہوئی۔ایدھی ہوم پہنچتے ہی معلوم ہوا وہ یہاں سے چلی گئی ہے۔ انچارج ایدھی ہوم شکیل احمد سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ نقشہ کو ملتان ایدھی ہوم بھیج دیا گیاہے۔ اس کی صحت گرتی جارہی ہے اوروہ سردی برداشت نہیں کرسکتی۔

سوشل ایکٹویسٹ جواد اصغر کے توسط سے 13 اکتوبر کو نقشہ مل گئی۔معلوم ہوا کہ نقشہ کا خیال تو رکھا جارہا ہے لیکن وہ اندر سے ٹوٹ چکی ہے۔پہلے جو کبھی وہ مسکرا دیتی تھی اب نہ تو وہ مسکراتی ہے اور نہ ہی کوئی رسپانس دیتی ہے۔ 6 سال سے وہ اپنے کسی رشتہ دار سے نہیں ملی۔ اب ایدھی ہوم ہی اس کا گھر ہے اور یہاں کے رہنے والے اس کے رشتہ دار ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.