16 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 7:31
وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کی زندگی کا آخری دن
جیو نیوز - کراچی......سلیم اللہ صدیقی......قیام پاکستان کے بعد سے سوا چار سال تک وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز رہنے والے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید ہوئے آج 64برس مکمل ہوگئے۔
اتنے سال پہلے آج ہی کے دن کیا ؟، کب؟ ، کیسے؟ اور کیوں؟ ہوا۔۔ اس کا جائزہ لیا جائے تو تاریخی واقعات کا ایک جھرکہ ساکھلتا محسوس ہوتا ہے۔ نئی نسل کی دلچسپی، معلومات اوروہ اس دن کی اہمیت سے بخوبی آگاہ رہے۔۔ اس خیال کے پیش نظر اس دن سے جڑے واقعات کو زیرنظر تحریر میں کسی ویڈیو فلم کے سے انداز میں پیش کیا جارہا ہے :
16اکتوبر1951ء، وقت صبح آٹھ بجے
ملک کے پہلے وزیراعظم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے جہاز” سلور وائے کنگ “ پرراولپنڈی جانے کیلئے سوار ہوئے جہاں دیگر مصروفیات کے علاوہ انہیں پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرناہے۔
صبح کے گیارہ بجے
جہازگیارہ بجے صبح اپنے وقت پر چک لالہ ائیرپورٹ پر پہنچ گیا ہے۔ائیرپورٹ پر استقبال کیلئے معززین شہر ایم ایل اے حضرات اور مسلم لیگ کے عہدیداران ایک طرف کھڑے ہیں۔ تعلقات عامہ’ کشمیر‘کے ڈائریکٹر ضیاالاسلام،تعلقات عامہ فوج کے ڈائریکٹرکمانڈر مقبول اور میڈیا کے نمائندے بھی موجود ہیں۔
ایک طرف وزیرامور کشمیر نواب مشتاق احمد گورمانی،یوسف خٹک سیکریٹری پاکستان مسلم لیگ،لیفٹیننٹ جنرل ناصر علی خان،چیف آف اسٹاف میجر جنرل یوسف،کمشنر انعام الرحیم،ڈی آئی جی پولیس خان نجف خان،ڈی ایس پی عبدالرشید خان،ڈائریکٹر انٹیلی جنس چودھری غلام مرتضیٰ اور کچھ دیگر افراد بھی وزیراعظم کی آمد کے منتظر ہیں۔
جہاز رکا تو نواب مشتاق گورمانی ،کمشنر انعام الرحیم اور جنرل ناصر علی آگے بڑھے۔جہاز سے پہلے وزیراعظم کے سیاسی سیکریٹری نواب صدیق علی خاں اترتے ہیں جس کے بعدوزیراعظم لیاقت علی خاں سامنے آتے ہیں۔
وزیراعظم ہوائی فوج کے دستے سے سلامی لینے کیلئے تشریف لے گئے۔اس کے بعد استقبال کیلئے آئے ہوئے معززین سے ملاقاتیں شروع ہوئیں۔کمشنر اور سٹی مسلم لیگ کے صدرحاضرین سے آپ کا تعارف کروارہے ہیں۔وزیراعظم نے اس موقع پر سب سے ہاتھ ملایا۔میڈیا کے کچھ نمائندوں نے بھی وزیراعظم سے گفتگو کی۔
سہ پہر 3بجے
راولپنڈی کے کمپنی باغ میں جلسے کاوقت تین بجے طے ہے جبکہ وزیراعظم کو پروگرام کے مطابق ٹھیک 4بجے وہاں پہنچناہے۔ وزیراعظم راولپنڈی سرکٹ ہاؤس سے جلسہ گاہ کے لئے تین بجکر سینتالیس منٹ پر روانہ ہوئے۔اس موقع پر گاڑی میں ان کے ہمراہ نواب صدیق علی خاں اور کمشنر بھی موجودہیں۔
شام چار بجے
جلسہ گاہ میں تین بجے کے بعد سے نظمیں جاری تھیں۔شام4بجے بینڈ نے قائد ملت کی آمد کا ترانہ چھیڑا۔لیاقت علی خان، مسلم لیگ نیشنل گارڈز ،قومی رضا کاروں، پولیس افسروں ،سی آئی ڈی اور اعلیٰ حکام کے پہرے میں پنڈال میں داخل ہوتے ہیں۔
ممتا ز مقامی شخصیات نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔انہیں اسٹیج پر جاتا دیکھ کر عوام تالیاں بجار ہے ہیں۔فضا ”پاکستان زندہ باد“،”مسلم لیگ زندہ باد“،”قائد اعظم زندہ باد“ اور”لیاقت علی خاں زندہ باد“کے پرجوش نعروں سے گونج رہی ہے۔کم و بیش 50ہزار عوام کا اجتماع جلسہ گاہ میں موجود ہے۔اس موقع پرعوام فرط جذبات سے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے ہیں۔
اسٹیج اچھا بنا ہوا ہے،دائیں طرف لاوٴڈ اسپیکرز کا اور بائیں طرف ریڈیو پاکستان کا عملہ موجود ہے۔ ان کے ساتھ اخبارات کے نمائندے بھی موجود ہیں۔وزیراعظم ایک بڑی کرسی پر تشرف فرما ہوئے۔ جلسے کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوتا ہے۔
مولانا عارف اللہ خطیب جامع مسجدنے تلاوت کی۔چیئرمین بلدیہ راولپنڈی شیخ مسعود صادق نے سپاسنامہ پڑھتے ہیں جس کے بعدمسلم لیگ کے مقامی صدر محمد عمر نے اہلیان راولپنڈی کی جانب سے آپ کو خوش آمدید کہا اور مختصر سی گفتگو کے بعد انہوں نے وزیراعظم کو اجتماع سے خطاب کی درخواست کی۔
وزیراعظم پر حملہ
چار بج کربیس منٹ ہوچکے ہیں۔وزیراعظم لیاقت علی خان نے تقریر کا آغاز کیا۔وہ مائیکروفون پر پہنچتے ہیں ،عوام کی نگاہیں وزیراعظم پر مرکوز ہیں ،ابھی پہلا جملہ نکلتا ہے” برادران ملت“کہ دوگولیاں چلنے کی آواز آتی ہے۔ وزیراعظم بایاں ہاتھ دل پر رکھے تیور آکر پیٹھ کے بل گر نے لگتے ہیں۔ اسٹینڈ بھی گررہا ہے۔
فائرنگ ان کے بائیں جانب 6گزکے فاصلے پرترچھا بیٹھے خاکی پتلون اور قمیص میں ملبوس ایک شخص نے کی۔حملے کیلئے قاتل نے ریوالور استعمال کیا۔گولیاں چلتے ہی یک لخت قریب بیٹھے لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔یہ سب اتنا اچانک ہو اکہ کسی کے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
پھر اچانک جذبات سے بے قابو ہجوم نے گھونسے لاتیں گملے لاٹھیاں اور برچھیاں مارکر قاتل کو موقع پر ہی ہلاک کردیا۔ کچھ مزید گولیاں چلنے کی بھی آواز آتی ہیں۔قاتل کی شناخت سید اکبر کے نام سے ہوئی۔
دوسری طرف حملہ ہونے کے بعد جب وزیراعظم زخمی ہوکرگرنے لگے تو سب سے پہلے انہیں سنبھالنے کیلئے آگے بڑھنے والوں میں پنڈی کے ڈپٹی کمشنر ہارڈی اور نواب صدیق علی خان تھے۔نواب صدیق علی خاں کہتے ہیں کہ جب وزیراعظم گرنے لگے تومیں نے انہیں لپک کر سہارا دیا اور ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر بیٹھ گیا۔
ان کے منہ سے پہلی بات نکلی ”مجھے گولی لگی ہے“۔اس کے بعد انہوں نے کلمہ پڑھا۔دوسری مرتبہ پھر دہرایا کہ” میرے گولی لگی ہے“ اور اس کے بعد پھر کلمہ پڑھا۔اور کہا” اللہ پاکستان کی حفاظت کرے“۔یہ کہنے کے بعد بے ہوشی طاری ہوگئی۔
اس موقع پر سول اسپتال راولپنڈی کے انچارج ڈاکٹر اقبال انصاری اور موقع پر موجود صحافی بھی قریب پہنچ چکے تھے۔ قائد ملت کو فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری اسپتال پہنچایا گیا جہاں کرنل میاں نے آپریشن کے ذریعے دو فولادی گولیاں نکالیں لیکن وزیراعظم لیاقت علی خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔
شام پانچ بجے
شام 5بجے کے قریب مشتاق احمد گورمانی آپریشن تھیٹر سے نکلے اور ہاتھ کے اشارے سے عوام کو تسلی دی مگر زبان سے کچھ نہ کہا۔کچھ ہی دیر بعدآپریشن تھیٹر میں موجود کرنل میاں باہرآکر کپکپانے لگے۔ وزیراعظم کی طبیعت کے سوال پر کہنے لگے مجھ میں کچھ کہنے کی تاب نہیں میرے ہونٹ سلے ہوئے ہیں۔پھر چند لمحوں بعدفضا میں خاموشی چھا گئی اور سسکیوں اور گریہ وزاری سنائی دینے لگی۔
وزیراعظم کی شہادت کی تصدیق ہوتے ہی راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے راولپنڈی اور چھاوٴنی میں دفعہ 144 کا نفاز کردیاجبکہ 17اکتوبر سے تین روز تک پورے ملک میں پرچم سرنگوں رہنے جبکہ بدھ اور جمعرات تک تمام دفاتر بندرکھنے کا اعلان کیا گیااور ملک بھر میں چالیس روز کے سوگ کا اعلان کیا گیا۔
اگلا دن یعنی 17اکتوبر1951ء
وفاقی دارالحکومت کراچی میں وزیراعظم کی شہادت کی خبرشام 5سے سوا 5تک آچکی تھی۔ملک بھرمیں فضا سوگوار تھی۔ شہید وزیراعظم کے جسد خاکی کو اسی رات قائد اعظم کے جہاز ”سلور وائے کنگ“ کے ذریعے واپس وفاقی دارالخلافہ کراچی روانہ کردیا گیا۔شاہی پاکستان فضائیہ کے تین جنگی طیارے بھی ہمراہ رہے۔میت صبح 4بج کر 55منٹ پرکراچی میں ماری پورکے ہوائی اڈے پر پہنچی۔
سہ پہر 3بج کر 20منٹ
17اکتوبر3بجکر20منٹ پر شہید وزیراعظم کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ان کی نماز جنازہ پولو گراؤنڈ میں مولانا احتشام الحق تھانوی نے پڑھائی۔