22 اکتوبر 2015
وقت اشاعت: 11:31
ملک کے پہلے بلدیاتی انتخابات
جیو نیوز - کراچی.....سلیم اللہ صدیقی.....اکتوبر1958 میں ملک میں پہلی مرتبہ مارشل لا ء نافذ ہوا ۔ مارشل لا ایڈمسٹریٹرآرمی چیف جنرل ایوب خان کا یہی وہ دور ہے جب ملک میں پہلی بار بلدیاتی اداروں اور ا ن کے ارکان کو باقاعدہ منتخب کرنے کا آغاز ہوا۔ سول حکومت کو برطرف کرنے کے باوجودوہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ کسی نہ کسی حد تک قومی معاملات میں عوام کی شرکت لازمی ہے۔
اسی سوچ نے بنیادی جمہوریتوں (بی ڈی سسٹم)کے تصور کو جنم دیا جس کے باعث پورے ملک میں ایک نیا بلدیاتی نظام قائم ہوا اور جس کے اراکین براہ راست منتخب کئے گئے۔ ان انتخابات میں پورے ملک سے80ہزار کونسلر منتخب ہوئے۔بعد ازاں بی ڈی سسٹم کے اس نظام کو صدر اور اسمبلیوں کا انتخابی ادارہ بنادیا گیا۔
بنیادی جمہوریتوں کے قیام کا اعلان
27اکتوبر1958کو ملک میں فوجی انقلا ب کی پہلی سالگرہ منائی جارہی تھی۔اس موقع پر آرمی چیف اورصدر جنرل ایو ب خان نے بنیادی جمہوریتوں کے قیام کااعلان کرتے ہوئے صدارتی آرڈی نینس جاری کردیا۔
10نومبر1959 کوبی ڈی سسٹم سے معروف یہ نظام ملک کے دونوں صوبوں مشرقی اور مغربی پاکستان میں یکساں طور پر نافذکردیا گیا۔
بنیادی جمہوریت کا نظام اور اس کے مقاصد
بنیادی جمہوریت کے مقاصد اپنی نوعیت کے اعتبار سے سیاسی و انتظامی تھے جبکہ دائرہ کار کے اعتبار سے قومی سے عوامی سطح تک کے مقاصد اس میں شامل تھے۔
قومی سطح کے مقاصد میں آئین کی تکمیل
قومی سطح کے مقاصد میں آئین کی تکمیل اور سیاسی نظام کی تشکیل شامل تھی جبکہ بنیادی جمہوریت کے ادارے کو ایک انتخابی کالج کی حیثیت دی گئی۔
مقامی سطح کے مقاصد
بنیادی جمہوریت کے ارکان کو یونین کونسل ،ٹاوٴن کمیٹی، یونین کمیٹی کے چیئرمین کا انتخاب کرنا عوام کے مقامی مسائل میں دلچسپی لے کر انہیں حل کرناتھا۔
11نومبر1959ء
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر مغربی پاکستان اخترحسین نے اعلان کیا کہ صوبے میں بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات 20دسمبر سے شروع ہوں گے اوردوہفتوں میں مکمل ہوجائیں گے۔ غیر جماعتی بنیادوں پرہونے والے انتخابات 1957 کی تیارکی ہوئی انتخابی فہرستوں کی بنیاد پر ہوں گے اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
الیکشن کاضابطہ اخلاق
انتخابات لڑنے کیلئے تعلیم کی کوئی شرط نہیں تھی تاہم ووٹراور امیدوار کی عمر کی حد 25برس مقرر کی گئی تھی۔انتخابی ضابطے کے مطابق دیہاتی علاقوں میں امیدوار کو زیادہ سے زیادہ سے 200روپے اور شہری علاقوں میں زیادہ سے زیادہ500روپے اخراجات کی اجازت دی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق انتخابات پر 30لاکھ روپے خرچ آیا جبکہ دس ہزار افراد نے پولنگ کی نگرانی کی۔
مغربی پاکستان میں ووٹروں کیلئے دو کروڑ بیلٹ بکس چھپوائے جانے کی تیاری کا کہا گیا۔الیکشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق امیدوار وں کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ووٹرزکے لئے کھانے اور آمدورفت کے لئے گاڑیوں کا بندوبست کرسکیں۔ ہرامیدوار کو50روپے بطور زر ضمانت کے طورپر جمع کرانے اور امیدوار کو اپنے بیلٹ بکس خود بنوانے کا کہا گیا۔ یہ بکس لکڑی کے تھے جن کا سائز ایک مکعب فٹ رکھا گیا۔
پولنگ اور نتائج
مشرقی پاکستا ن میں26دسمبر کو انتخابات کا آغا ز ہوا اورتقریبا تین ہفتوں میں یہ عمل مکمل ہوا۔
وفاقی دارلحکومت کراچی میں انتخابات21سے 28دسمبر تک مرحلہ وار ہوئے جس میں سے 25 اور 27کو شہر میں تعطیل کے سبب پولنگ نہیں ہوئی۔شہرکے86حلقوں میں پولنگ ہوئی جب کہ39حلقوں میں 234 امیدوارپہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے تھے منتخب ہونے والوں میں 15خواتین بھی شامل تھیں۔
حیدرآباد ڈویژن میں پولنگ26دسمبر سے مرحلہ وار شروع ہوئی۔حیدرآباد شہر میں انتخابات کے حوالے سے صورتحال بہت دلچسپ رہی۔سب سے زیادہ بلامقابلہ امیدوار اسی شہر سے کامیاب ہوئے یہاں کے11میں سے 7وارڈز میں 216اامیدوار بلامقابلہ کامیا ب ہوئے۔کنٹونمنٹ سمیت 4وارڈز میں216امیدواروں نے حصہ لیا۔
لاہور میں پولنگ26دسمبر سے مرحلہ وار شروع ہوئی۔ الیکشن میں بہت زیادہ گہما گہمی دیکھی گئی۔ امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ بھی دیکھنے میں آیا۔51یونین کمیٹیوں میں انتخاب تھے جبکہ9یونین کمیٹی کے ممبران بلامقابلہ منتخب ہوچکے تھے۔
سیالکوٹ میں 18یونین کونسلوں اور12یونین کمیٹیوں اور چھاونی کی5یونین کمیٹیوں کے لئے60 سے80فیصد ووٹ ڈالے گئے۔
راولپنڈی ڈویژن میں انتخابات 26دسمبر سے شروع ہوکر مرحلہ وار 8جنوری تک جاری رہے۔ڈویژن کے شہری اور دیہی علاقوں کے 506 حلقوں میں سے1218امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے تھے۔
بہاولپور شہر سے انتخابات میں قریبا70فیصد مردوں اور 46فیصد خواتین نے حصہ لیا ،ابتدائی طور پر 46امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے تھے۔یہاں مردوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح 60فیصد جبکہ خواتین کی80فیصد ریکارڈ کی گئی۔
میانوالی میں بھی مرحلہ وار ہونے والی پولنگ میں جوش و خروش دیکھا گیا۔بعض مقامات پر رش کے سبب پولنگ کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا تھاجبکہ پولنگ مراکز میں خواتین کے آنے پر بعض اعتراضات کے سبب پولنگ میں تعطل بھی دیکھا گیا۔
گوجرانوالہ میں خواتین ووٹرز کی تصویریں اتارنے پر دو افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔
سندھ کے دیگر علاقوں جس میں لاڑکانہ، جیکب آباد کوٹری، شکارپورسمیت کئی دیگر علاقے شامل تھے۔گوکہ تعطیل کا اعلان نہیں کیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود ان علاقوں میں اس دوران کاروبار زندگی بند نظرآیا۔مرحلہ وار پولنگ پرامن طریقے سے ہوئی۔