تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
6 دسمبر 2012
وقت اشاعت: 20:11

بابری مسجد:رام کی جنم بھومی کے دعوے کی قلعی کھل گئی

اے آر وائی - بابری مسجد میں مورتی کس نےرکھی ۔ بھارتی محققین نے مسجدمیں مورتی رکھنےوالےڈھونڈلیے۔ تحقیقی کتاب کے مطابق مورتی مسجد میں تریسٹھ برس پہلےرکھی گئی ۔ سازش کا مقصد قوم پرست جماعت کومضبوط کرناتھا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بیس سال بعدرام کی جنم بھومی کے دعوے کی قلعی کھل گئی۔ مسلمانوں کامسجد پر دعویٰ ایک بارپھر سچا ثابت ہوا۔



محققین نے بابری مسجدمیں مورتی رکھنےوالےسازشیوں کا سراغ لگالیا۔انیس سو اننچاس میں بابری مسجد میں مورتی کرشماتی طورپرسامنے نہیں آئی تھی بلکہ موذن محمد اسمٰعیل کو زخمی کرنے کے بعدرات کے اندھیرے میں مورتی کو نصب کیاگیاتھا۔



محقق کرشنا جھا اور دھیریندر جھانےعینی شاہدین اور پرانے ریکارڈز پر تحقیق کے بعدتفصیلات ایودھیا، دی ڈارک نائٹ نامی کتاب میں تحریرکی ہیں۔ کتاب منظرعام پر نہیں آئی البتہ غیرملکی میڈیا کےمطابق اشاعت کیلئے تیار کتاب میں بتایاگیاہےکہ مسجد میں بھگوان کی مورتی رکھنے کی سازش میں ضلع کے اعلیٰ افسر کےکے نائر بھی شامل تھے۔ سازش کا مقصد قوم پرست تنظیم ہندو مہاسبھا کو ایک بڑی قومی سیاسی طاقت میں بدلنا تھا۔



کتاب میں بتایاگیاکہ انیس سو انچاس میں بائیس اور تئیس دسمبر کی درمیانی شب کس طرح تھوڑی دیرمیں مسجد کو مندرمیں تبدیل کردیا گیا۔اس وقت ہند مہاسبھا کے فیض آباد یونٹ کے سربراہ گوپال سنگھ وشارد کرشمےکا اعلان کرنے کے لیے ایک مقامی پریس میں پوسٹر چھپوا رہے تھے۔اس رات کے مرکزی کردار بابا ابھیرام داس تھے جن کا تعلق نروانی اکھاڑے سے تھا ۔ کتاب کے مطابق مورتی انہوں نے ہی رکھی تھی۔ بعدمیں وہ رام جنم بھومی کو آزاد کرانے والے بابا کے نام سے مشہورہوئے ۔ مورتی رکھنے کےبعداگلی صبح مسجد سے ’رام لیلا‘ کے نعرے بلند کئے گئے۔



اس سازش میں ہندو مہاسبھا کے اترپردیش کے صدر مہنت دگ وجے ناتھ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا جنہیں اگلے ہی دن تنظیم کا مرکز ی جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا تو مہنت دگ وجے ناتھ بھی ملزمان کی فہرست میں شامل تھے لیکن بعد میں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.