14 ستمبر 2012
وقت اشاعت: 0:17
ٹیری جونز کی متنازعہ فلم، مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری
اے آر وائی - امریکی انتہا پسند پادری ٹیری جونز کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مبنی شر انگیز فلم کیخلاف دنیا بھر میں دوسرے روز بھی مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ۔ تیونس میں امریکی سفارتخانہ کے باہر شہریوں نے مظاہرہ کیا، شہریوں نے امریکی پرچم نذر آتش کیا اور امریکہ کیخلاف نعرے لگائے، اس موقع پر سفارتخانہ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے مطاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور بعض مطاہرین کو گرفتار کر لیا۔
مصر میں بھی احتجاج جاری ہے، قاہرہ میں گذشتہ روز ہزاروں شہریوں نے امریکی سفارتخانے کے باہر شدید احتجاج کیا، مظاہرین نے ٹیری جونز کی مذمت اور امریکہ کیخلاف نعروں پر مبنی پلے کارڈز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔
مفتی اعظم شام احمد بدرالدین نے متنازعہ فلم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کا ذمہ دار پادری کو قرار واقعی سزا دینےکا مطالبہ کیا، دوسری جانب امریکہ میں لیبیا کے سفیر اور امریکی مسلمانوں نے گذشتہ روز لیبیا کے شہر بن غازی میں ہونیوالے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا اسے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
ادھر امریکی صدر اوبامہ نے گذشتہ روز لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی شہری کی ہلاکت کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں امریکی سفارتی عملے کی سیکیورٹی میں مزید اضافے کی ہدایت جاری کی ہیں۔