تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
5 نومبر 2012
وقت اشاعت: 7:45

اوباما اوررومنی،فیصلہ کن ریاستوں کے دورے

اے آر وائی - امریکی صدر براک اوباما اور ان کے حریف مٹ رومنی انتخابی معرکے کے آخری مرحلے میں ووٹروں کو رام کرنے کے لیے فیصلہ کن ریاستوں کےطوفانی دورے کر رہے ہیں۔ سابق صدر بل کلنٹن نے اپنی آواز اوباما کے لیے قربان کردی۔



صدر براک اوباما اور ان کے ری پبلکن حریف مٹ رومنی ان ریاستوں کا دورہ کر رہے جہاں انتخابی دوڑ سخت ترین ہے اور چند ووٹوں کا فرق ملکی سطح پر فتح یا شکست کا باعث بن سکتا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دونوں کے درمیان مقابلہ اتنا سخت ہے کہ انتخابات کے حتمی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔



رومنی سفید فام، معمر اور مذہبی لوگوں میں، جب کہ اوباما عورتوں، غیر سفید فاموں اور نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہیں جبکہ صدر اوباما کو نو کے لگ بھگ ڈانواں ڈول ریاستوں میں معمولی برتری حاصل ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جو انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی آئیووا، اوہائیو، پین سلوینیا اور ورجینیا میں مہم چلا رہے ہیں، اوباما نے نیو ہمپیشائر، فلوریڈا، اوہایو اور کولوراڈو کا رخ کیا ہے۔



سابق صدر بل کلنٹن ایک بار پھر صدر اوباما کی حمایت میں نکل آئے ہیں اور صدر اوباما کے ہمراہ انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ دونوں امیدوار اور ان کے ساتھی انتہائی تھکن کا شکار ہیں۔ بل کلنٹن نے اوباما کی حمایت میں بیٹھی ہوئی آواز میں خطاب کیا اور کہا میں نے امریکی صدر کے لیے اپنی آواز قربان کر دی۔



دوسری طرف نیو ہیمپشائر میں اپنی مہم کے دوران مٹ رومنی نے صدر اوباما پر تنقید کی اور کہا کہ ری پبلکن پارٹی سے بہترین انتقام ووٹنگ ہے۔ ووٹ انتقام لینے کے لیے؟ میں آپ کو بتاؤں: ووٹ ملک کے لیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم امریکہ کو ایک بہتر مقام پر لے کر جائیں۔ اوباما نے اپنے خطاب میں کہا عوام رومنی کو صدر بننے کا موقع نہ دیں کیا امریکی وال اسٹریٹ کو دوبارہ وہی مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں کہ وال اسٹریٹ جو چاہے کرتی پھرے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.