7 نومبر 2012
وقت اشاعت: 0:18
چند ریاستوں میں پولنگ مکمل، رومنی کو برتری حاصل
اے آر وائی - دنیا بھر کی توجہ حاصل کرنے والے امریکی صدارتی انتخابات آخری مر حلے میں داخل ہو گئے ۔ کچھ ریاستوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا جبکہ کچھ ریاستوں میں ابھی ووٹنگ کا عمل جاری ہے ۔امریکی ریاست کینٹکی ،لوزیانہ اور ہمشائر میں ووٹنگ کا عمل مکمل ۔ تین ریاستوں سے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مٹ رومنی کو باراک اوباما پر برتری حاصل ہے ۔ پاپولر ووٹ میں مٹ رومنی کو باراک اوباما پر برتری حاصل ہے اب تک آنے والے نتائج کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما کو اڑتیس فیصد جبکہ مٹ رومنی کو تریسٹھ فیصد ووٹ ملے ہیں ۔ نیو ہیمپشائر میں اوباما کو برتری حاصل ہے۔ باراک اوباما اور مونٹ سے کامیابی حاصل کر چکے ہیں ۔
ایگزٹ پول کے مطابق ساٹھ فیصد ووٹر اقتصادی پالیسیوں کے حوالے سے فکر مند ہیں جبکہ صرف چار فیصد نے خارجہ پالیسی کے بنیاد پر اوباما اور مٹ رومنی کو ووٹ دیا ۔ امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ میں جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔ مختلف شہروں میں ووٹرز کی طویل قطاریں نظر آئیں۔ انڈیانا ، ورجینیا ، نیوہمپشائر اور کینٹکی سمیت مشرقی ریاستوں میں پولنگ مکمل ہوگئی ہے۔
پولنگ کا آغاز ریاست نیو ہمپشائر کے ایک گاؤں ڈکس ویلی نوچ سے ہوا جہاں بارہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے دس نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہاں مٹ رومنی اور براک اوباما نے پانچ پانچ ووٹ حاصل کئے ۔ نیو ہیمپشائر کے دیگر شہروں سے موصولہ نتائج کے مطابق صدر اوباما کو برتری حاصل ہے جہاں انہیں پنسٹھ اور مٹ رومنی کو پینتیس ووٹ ملے ۔ ایگزٹ پول کے مطابق امریکا کے ساٹھ فیصد ووٹرز اقتصادی پالسیوں کے حوالے سے فکر مند ہیں سترہ فیصد ووٹر کے ذہنوں میں صحت کی پالیسیاں مد نظر ہیں اور صرف چار فیصد ووٹرز نے خارجہ پالیسی کی بنیاد پر اوباما اور رومنی کو ووٹ دیا ۔
امریکی میڈیا کے مطابق پاپولرووٹس میں مٹ رومنی کو اوباما پر برتری حاصل ہے ،ابتدائی پاپولرووٹس کینٹکی،انڈیانااور نیوہمپشائرکے ہیں۔ دونوں امیدوارو ں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ پنسلوانیا میں خراب انتخابی مشنیں ہٹا دی گئیں، یہاں باراک اوباما کو پڑنے والے ووٹ مٹ رومنی کوجارہے تھے،بعض مقامات پر مشینوں کے خراب ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
نیوجرسی میں ای میل اور فیکس بیلٹ پیپر نہ ملنے کی وجہ سے پولنگ کے دورانیئے میں اٹھ بجے تک اضافہ کردیا گیا ہے ۔امریکہ میں مشرق سے مغرب تک چار مختلف ٹائم زون ہونے کی وجہ سے ریاستوں میں مختلف اوقات میں ووٹنگ شروع ہوئی۔