18 نومبر 2012
وقت اشاعت: 17:56
اسرائیل نےمیزائل شکن نظام آئرن ڈوم فلسطین میں استعمال کیا
اے آر وائی - اسرائیلی میزائل سسٹم کے آئرن ڈوم نظام فلسطینیوں کیجانب سے فائر کئے گئے حملے روکنے میں موثر ہٹھایار کے طور پر کامیاب رہا،اسرائیل کا یہ اینٹی میزائل سسٹم ایک سو پچاس اسکوائر کلومیٹر کی پہنچ سے آنے والے میزائل کو ہوا میں تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
اسرائیل کا معروف میزائل شکن پروگرام آئرن ڈوم اس مرتبہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے فائر کیے گئے راکٹ روکنے میں کامیاب رہا لیکن پھر بھی کچھ راکٹ ایسے تھے جو آئرن ڈوم نامی اس اپ گریڈ ورژن کی رینج میں نہ آسکے۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فائر کیے گئے 75 راکٹ میں سے 72 راکٹ کو آئرن ڈوم فضا میں تباہ کرنے میں کامیاب رہا لیکن صرف 3 راکٹ ایسے تھے جو اسرائیل میں گرے۔ آئرن ڈوم نامی سسٹم کو ایک اسلحہ ساز کمپنی نے تیار کیا ہے جس پر تقریبا 210 ملین ڈالر کی لاگت ہے۔ اسرائیل لبنان جنگ کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع نے حزب اللہ کی جانب سے راکٹ حملوں سے بچنے کے لیے فروری 2007 میں آئرن ڈوم کی تنصیب کا فیصلہ کیا تھا۔آئرن ڈوم سسٹم شروع میں تو ناکام رہا لیکن 2011 اور پھر امریکی امداد کے بعد 2012 میں اسے کامیاب قراردیا گیا۔ کیونکہ اسرائیلی فضائیہ نے اسے ٹیک اوور کرتے ہوئے اپ گریڈ کیا تھا۔
شروع میں قصام بریگیڈ کے حملوں سے بچنے کے لیے یہ سسٹم بنایا گیا جسے اینٹی قصام کا نام دیا گیا اور بعدازاں گولڈن ڈوم اور پھر اپ گریڈیشن کے بعد اسے آئرن ڈوم کے نام سے نوازا گیا۔ آئرن ڈوم کے بانی کے مطابق یہ ایک اینٹی میزائل سسٹم ہے اور 150 اسکوائر کلومیٹر کی رینج تک مخالف سمت سے آنے والے میزائل کو ہوا میں ہی تباہ کرتا ہے۔