21 نومبر 2012
وقت اشاعت: 3:52
ممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی
اے آر وائی - ممبئی حملوں کے الزام میں مجرم قرار دیئے جانے والے اجمل قصاب کو بھارتی وقت کے مطابق آج صبح ساڑھے سات بجے پھانسی کی سزا دے دی گئی ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی صدر نے اجمل قصاب کی رحم کی اپیل مسترد کردی تھی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے قصاب کوممبئی حملوں کے الزام پرسزائے موت سنائی تھی۔
بھارتی سپریم کورٹ نے انتیس اگست کو اجمل قصاب کی سزا برقرار رکھی تھی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجمل قصاب کو ممبئی سے پونے جیل منتقل کردیا گیاتھا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے انتیس اگست کو اجمل قصاب کی رحم کی اپیل مسترد کی تھی۔
بھارتی صدر پرناب مکھر جی نے وزارت داخلہ کی سفارش پر اجمل قصاب کی رحم کی اپیل مسترد کی اور اسے ممبئی سے پونے کی یروادا جیل منتقل کیا گیا جہاں اسے آج صبح بھارتی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے پھانسی دے دی گئی۔
پچیس سالہ اجمل قصاب پر چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی میں ایک سو چھیاسٹھ افراد کو ہلاک کرنے کاالزام تھا۔ بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق اجمل قصاب کی رحم کی اپیل مسترد کرنے کا فیصلہ وزارت داخلہ سے مشورے کے بعد کیاگیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اجمل قصاب نے بھارتی صدر پرناب مکھرجی سے رحم کی اپیل کی تھی۔ اس سے پہلے بھارتی سپریم کورٹ نے اجمل قصاب کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی تھی۔ اجمل قصاب پر الزام ہے کہ چھبیس نومبر دوہزار آٹھ کو ممبئی پر حملے میں گرفتار کیا گیا تھا اور اجمل قصاب کے نوساتھی ہلاک کردیئے گئے تھے لیکن قصاب کو حملے کے دوران زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔
فروری میں ممبئی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کی طرف سے قصاب کو سنائی گئی موت کی سزا کی توثیق کی تھی۔ بھارتی سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے فیصلے میں کہا تھا کہ ہمارے پاس سزائے موت دینے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہے۔
قصاب کا سب سے پہلا اور سب سے اہم جرم یہ تھا کہ اس نے بھارت کی حکومت کے خلاف جنگ کی۔ عدالت نے اجمل قصاب کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ممبئی میں ان کے خلاف مقدمے کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی تھی کیونکہ انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے وکیل کی خدمات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
اجمل قصاب پر الزام ہے کہ اس نے دیگرساتھیوں کے ہمراہ ممبئی کے ریلوے اسٹیشن، تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل، ناریمن ہاوٴس اور لیوپولڈ کیفے پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔