21 نومبر 2012
وقت اشاعت: 12:44
جیل میں ہی اجمل قصاب کی تدفین،خالہ نے لاش کا مطالبہ کردیا
اے آر وائی - اجمل قصاب کو پونےکی جیل میں پھانسی دےدی گئی جیل میں ہی اجمل قصاب کی تدفین کردی گئی ہے ۔ اجمل قصاب کی خالہ نے حکومت سے اجمل قصاب کی میت پاکستان لانے کا مطالبہ کردیا ہے ۔
چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو ممبئی میں واقع تاج ہوٹل پرحملہ ہوا تھا ، اوبیرائے ہوٹل ، لیوپولڈ کیفے ،ناریمن ہاؤس اور ٹرین اسٹیشن گولیوں اور دھماکے سے گونج اٹھے تھے ۔ ستائیس نومبر دوہزار آ ٹھ کو بھارتی کمانڈوز نے اجمل قصاب کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ممبئی ساٹھ گھنٹوں تک حالت جنگ میں رہا۔
دس حملہ آور میں سے نو پولیس مقابلے میں ہلاک ہوئے اور اجمل قصاب پولیس کے شکنجے میں آ گیا۔ اجمل قصاب نے اعتراف جرم قبول کرلیا۔کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے مراکز میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے کا بھی اعتراف کیا ۔ تیرہ جنوری دو ہزار نوکو بھارت کی خصوصی عدالت میں ممبئی حملوں کا مقدمہ شروع ہوا عدالت میں اجمل قصاب کے خلاف جنگ چھڑنے ،دہشتگردی کی سازش کرنے ،قتل اور اقدام قتل جیسے الزامات کا مقدمہ چلایا گیا۔
پچیس فروری دو ہزارکو پولیس نے اجمل قصاب کے خلاف گیارہ ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ جمع کرائی۔ اگست دو ہزار نو کو بھارت نے الزامات پر مبنی ثبوت پاکستان کے حوالے کئے اور کردیا مطالبہ تفتیش کا۔ اکتیس مارچ دو ہزار دس کوبھارت میں ممبئی حملوں کی سماعت ہوئی مکمل۔ تین مئی دو ہزار دس کو اجمل قصاب کو مجرم قرار دے دیا گیا۔ چھ مئ دو ہزار دس کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اجمل قصاب کو چھیاسی مقدمات میں مجرم قرار دیا اورسزائے موت سنادی ۔
اکیس فروری دو ہزار گیارہ کو ممبئی ہائی کورٹ نے اجمل قصاب کی سزا برقرار رکھی۔ اجمل قصاب نے بھارتی سپریم کورٹ میں رحم کی اپیل کی۔ انتیس اگست دوہزار گیارہ کو بھارتی سپریم کورٹ نے رحم کی اپیل مسترد کردی ۔
پھانسی سے بچنے کا آخری راستہ صدر سے رحم کی اپیل تھی۔ ستمبر دو ہزار بارہ کو بھارتی صدر پرناب مکھرجی سے سزائے موت پر رحم کی اپیل کی گئی ۔ چھ نومبر دو ہزار بارہ کو رحم کی اپیل مسترد کر دی گئی اور اجمل قصاب کی سزائے موت برقرار رہی ۔ اکیس نومبر دو ہزار بارہ کوبھارت کے شہر پونے کی یرا وڈا جیل میں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے اجمل قصاب کو پھانسی دے دی گئی۔ چند گھنٹوں بعد اسے جیل میں ہی دفن کر دیا گیا۔
اجمل قصاب کے آبائی علاقے حویلی لکھا میں موجود اس کی خالہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے قصاب کی لاش پاکستان لائی جائے۔