25 نومبر 2012
وقت اشاعت: 9:25
مصری صدر کے حکم کے خلاف التحریر اسکوائر پر مظاہرے
اے آر وائی - التحریر اسکوائر پر ابھی بھڑکتے دیئوں کی راکھ بھی ٹھنڈی نہ ہوئی تھی انہیں پھر محمد مرسی کے اقدامات نے لو دے دی اورمزاحمت کا یہ شعلہ اب پھر بھڑک اٹھا ہے۔ جی ہاں مصری صدر محمد مرسی کے حکم نامے نے پورے ملک میں پھر مزاحمت کو ہوا دی ہے اور التحریر اسکوائر پر مظاہرے پھر شروع ہوگئے ہیں۔
حکم نامے کے مطابق جاری تمام اختیارات مصری صدر کو مل گئے ہیں ،اب محمد مرسی خود کو کسی کا جوابدہ نہیں سمجھیں گے ،یہ لا متناعی اختیارات بھلا کیونکر برداشت کئے جائیں گے ،تمام ججز نے احکامات کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے ان احکام کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدراتی حکم نامے میں عدالت کو آئین ساز اسمبلی کو ختم کرنے کے اختیارات پر قدغن لگائی ہے۔ مصری ججز کا کہنا ہے کہ یہ عدلیہ پر غیرمعمولی حملہ ہے۔ ادھر حزب اختلاف کے رہنما محمد البرادی نے بھی اس موقع کو سنہری موقع سمجھا اور بیان داغ دیا کہ محمد مرسی فوری طور پر صدارت کی کرسی چھوڑ دیں۔
حکم نامے کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی اور عوام کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جس میں متعدد زخمی ہوئے ،منگل کو التحریر اسکوائر پر صدر کے اقدامات کے خلاف ملک گیر ہڑاتل کی کال دی گئی ہے ،جس پر عوام التحریر اسکوائر پر جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مصر کی صورتحال پر امریکا سمیت دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے ،خیال ہے کہ صدر مرسی بھی آمرانہ اقتدار کے خواہاں ہیں۔