27 نومبر 2012
وقت اشاعت: 17:27
امریکی فوج افغانستان میں 2014کے بعد تعینات رکھنے کی تجویز
اے آر وائی - امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی تھنک ٹینک نے تجویز دی ہے کہ ڈرون حملوں کو جاری رکھنے کیلئے دو ہزار چودہ کے بعد بھی تیس ہزار سے زائد امریکی فوج افغانستان میں تعینات ر ہے ۔
پاک افغان سرحدی علاقوں میں انسداد دہشت گردی سے متعلق اوباما انتظامیہ کو تجویز دی گئی ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملے انتہائی ناگزیر ہیں. پالیسی سازوں نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے صوبوں کنڑ ،نورستان اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور دیگر جنگجوؤں کے محفوظ ٹھکانے ہیں ۔ افغانستا ن میں امریکا نے اڈے ختم کردیئے تو ان علاقوں میں کارروائی نہیں کی جاسکے گی ۔
ایسی صورت میں سمندر سے کارروائی ہو سکتی ہے تاہم بحر ہند کا استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ڈرون طیارہ کو سمندر سے افغانستان تک چھ سو میل کا سفر کرانے کے لیئے جنگی جہاز چاہیے ہوگا اور اس سفر میں لمبا وقت لگے گا۔
پالیسی سازوں کے مطابق امریکا کو جلال آباد ، قندھار اور خوست میں اپنے اڈے برقراررکھنے چاہییں تاکہ فاٹا ،و زیرستان اور دیگر علاقوں میں ڈرون کے ذریعے دہشت گردوں کو ہدف بنایا جا سکے ۔