28 نومبر 2012
وقت اشاعت: 6:5
دوہزارچودہ کےبعد امریکی فوج افغانستان میں رکھنے کی تجویز
اے آر وائی - امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی تھنک ٹینک نے تجویز دی ہے کہ ڈرون حملوں کو جاری رکھنے کیلئے دو ہزارچودہ کے بعد بھی تیس ہزار سے زائد امریکی فوج افغانستان میں تعینات رہے۔
پاک افغان سرحدی علاقوں میں انسداد دہشت گردی سے متعلق اوباما انتظامیہ کو تجویز دی گئی ہےکہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملے انتہائی ناگزیر ہیں ۔ پالیسی سازوں نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے صوبوں کنڑ،نورستان اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور دیگر جنگجوؤں کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔
افغانستا ن میں امریکا نے اڈے ختم کردیئے تو ان علاقوں میں کارروائی نہیں کی جاسکے گی ۔ ایسی صورت میں سمندر سے کارروائی ہو سکتی ہے تاہم بحر ہند کا استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ڈرون طیارہ کو سمندر سے افغانستان تک چھ سو میل کا سفر کرانے کے لیئے جنگی جہاز چاہیے ہوگا۔۔اور اس سفر میں لمبا وقت لگے گا۔
پالیسی سازوں کے مطابق امریکا کو جلال آباد ، قندھار اور خوست میں اپنے اڈے برقراررکھنے چاہییں تاکہ فاٹا، وزیرستان اوردیگر علاقوں میں ڈرون کے ذریعے دہشت گردوں کو ہدف بنایا جا سکے۔