تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
30 اگست 2013
وقت اشاعت: 20:35

شام پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، محدود پیمانے پر کارروائی کیلئے غورہورہا ہے: اوباما

جیو نیوز - واشنگٹن… امریکی صدربارک اوباما کاکہناہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پرجوابی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیاتاہم محدود پیمانے پر کارروائی کیلئے غورہورہاہے۔ امریکا نے شام میں کیمیاوی حملوں کی ذمے داری بشار الاسد حکومت پر ڈال دی۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکیس اگست کو حکومتی تنصیبات سے راکٹ فائر کیے گئے۔ جان کیری کہتے ہیں امریکا اپنے فیصلے خود کرے گا، تنازع کا سیاسی اور سفارتی حل بھی ہونا چاہیے۔ امریکا نے شام میں کیمیائی حملوں سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹ جاری کردی ہے۔ امریکی صدربارک اوباما کاکہناہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پرجوابی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیاتاہم محدود پیمانے پر کارروائی کیلئے غورہورہاہے۔ خواتین اور بچوں کوکیمیائی گیس کے ذریعے ہلاک کرنا ناقابل قبول ہے۔ دمشق میں کیمیائی حملے دنیاکیلئے چیلنج ہیں اور اس سے امریکی قومی سلامتی کوخطرہ پیداہوگیاہے۔وزیرخارجہ جان کیری نے انٹیلی جنس رپورٹ پربریفنگ دیتے ہوئے الزام لگایاکہ شام نے اس برس کئی مرتبہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔21 اگست کوکیے گئے کیمیائی حملے میں 1 ہزار 4 سو 29 افراد مارے گئے جن میں 426 بچے بھی شامل تھے۔ اس حملے کے لیے راکٹ حکومتی تنصیبات سے فائرہوئے۔ جان کیری کا کہنا تھاکہ شام میں کیمیائی حملوں کا الزام حکومتی مخالفین پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔ شام میں پچھلے برس بھی چھوٹے پیمانے پرکیمیائی ہتھیاراستعمال ہونے کے شواہدملے تھے۔ دمشق میں موجوداقوام متحدہ کے کیمیائی معائنہ کاروں نے حملوں کے ممکنہ شواہد جمع کرلیے ہیں۔ادھرنیٹوکاکہناہے کہ شام میں مغربی ممالک کی کسی ممکنہ فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.