13 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 2:45
شام کیخلاف فوجی کارروائی خارج ازامکان نہیں: جان کیری
جیو نیوز - جنیوا…امریکا کے وزیرخارجہ جان کیری نے کہاہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کامعاملہ حل نہ ہوا توشام کے خلاف فوجی کارروائی خارج ازامکان نہیں ہے۔ دوسری جانب روس کے صدرپوٹن نے کھلاخط لکھ کرامریکی ہم منصب کو سمجھانیکی کوشش ہے کہ مشرق وسطی کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے سے بازرہیں۔ امریکااور روس کے درمیان شام کے معاملے پراختلافات کیری لاروف ملاقات بھی ختم نہ کرسکی۔ جنیوامیں ہوئی بات چیت کے بعدپریس کانفرنس کرتے ہوئے جان کیری نے کہاکہ انہوں نے ہم منصب سرگئی لاروف پرواضح کردیاہے کہ یہ کھیل نہیں حقیقت ہے۔روس کے صدرپوٹن نے اپنے امریکی ہم منصب براک اوباماکوبھی سمجھانے کے لیے کھلاخط لکھاہے کہ مسئلہ کاحل سفارتکاری سے تلاش نہ کیاگیاتوالقاعدہ کودنیابھرمیں حملوں کاموقع ملے گا۔ سفارتکاری کی باتیں اپنی جگہ، روس جانتاہے کہ امریکاجنگ کرکے ہی رہے گااور یہی وجہ ہے کہ ماسکونے اپناجنگی جہازشام کی مددکیلئے یوکرائن سے روانہ کردیاہے۔روس کے وزیرخارجہ نے کہاکہ مسئلہ کاحل شام پرحملے کوغیرضروری بنادیگااور انہیں توقع ہے کہ صدراوبامابھی مسئلہ کے پرامن حل پریقین رکھتے ہیں۔ باغیوں کے بھیس میں القاعدہ کاسامناکرنے والے شام کاکہناہے کہ وہ مسئلہ کاپرامن حل چاہتاہے اوروہ کیمیائی ہتھیاروں پرعالمی پابندی کے معاہدے پردستخط پرتیارہے۔ دمشق نے اس بارے میں اقوام متحدہ کوبھی آگاہ کردیاہے۔ صدربشارالاسدنے کہاکہ معاہدے کامطلب یہ نہیں ہوگاکہ شام دستاویزپردستخط کردیگااورشرائط پرعمل کریگا،یہ دوطرفہ عمل ہوناچاہیے۔ امریکاکوبھی دھمکی آمیزلہجہ ختم کرناہوگا۔ صدراوبامانے بظاہرامیدظاہرکی ہے کہ کیری لاروف ملاقات نتیجہ خیزہوگی تاہم روسی حکام کہتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ اوباماکوجنگ میں دھکیل کرنیاجارج بش بناکر رہے گی اورپوٹن اگرامریکاکواس جنگ سے بازرکھنے میں کامیاب ہوگئے توامن کے نوبیل انعام کے حقدارٹہریں گے۔