تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
11 اکتوبر 2013
وقت اشاعت: 22:36

نوبیل امن کا انعام کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم کو ملنے سے نئی بحث چھڑ گئی

جیو نیوز - کراچی…نوبیل امن انعام کیمیائی ہتھیاروں کے انسدادسے متعلق بین الاقوامی تنظیم کودیا گیاہے۔ 19سو97میں نیدرلینڈزمیں قائم یہ تنظیم پاکستان سمیت189رکن ممالک پرمشتمل ہے۔ نوبیل امن انعام کے اعلان نے روس ،شام اورایران کوفاتح جبکہ امریکااوربرطانیہ سمیت یورپ کوشکست خوردہ کیمپ میں کھڑاکردیاہے۔ملالہ یوسف زئی کی جگہ یہ ایوارڈکیمیائی ہتھیاروں کے انسداد سے متعلق تنظیم کودیے جانے کااعلان کئی ملکوں کیلیے ناخوش گواری کا باعث بنا۔ کمیٹی کی وضاحت کہ باوجود کہ یہ ایوارڈ صرف شام کے مسئلہ پرنہیں دیاگیا۔ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کاالزام صدربشارالاسدپرلگاکرامریکا،فرانس اور برطانیہ کے ساتھ دمشق پرچڑھ دوڑنے نکلاتھا۔ وہی ہتھیارجوروس کے نزدیک شام میں باغیوں کا لبادہ اوڑھے القاعدہ نے استعمال کیے تھے۔ یہ روس کے صدرپوٹن ہی کی تجویزتھی جس نے شام پرمغرب کی اعلانیہ جنگ روکی اوراقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کویہ ہتھیار تلف کرنے کاموقع دیکرہزاروں شامیوں کی زندگی بچائی۔ امن کمیٹی نے ایوارڈکااعلان کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں سے جنگ عظیم اول میں ہوئی تباہی کابھی ذکرکیا۔ ملالہ کوایوارڈکمیٹی نے غیرمعمولی لڑکی قراردیامگرانعام نہ دینے کی وجہ نہیں بتائی۔ دیگرنامزدافرادمیں شام پراوباماکوچیلنج کرنے والے روس کے صدرپوٹن، امریکی پالیسیوں کاپول کھولنے والاایڈورڈاسنوڈن اورسزاکاٹنے والاامریکی فوجی بریڈلے میننگ بھی تھا۔ دنیاکوعالمی سفارتکاری کی اصل شکل دکھانے والے وکی لیکس والے جولین اسانج بھی نامزدتھے۔ یعنی ایک سے بڑھ کرایک امریکامخالف میدان میں تھا۔ یہ امن کاوہ انعام تھاجوخودامریکی صدراوباماکوپہلے دورصدارت میں انکی اچھی اچھی باتوں پردیاگیاتھا۔وہی اوباماجنہوں نے پھرخاموش سفارتکاری سے تیونس،مصراور لیبیامیں باغی کھڑے کرکے حکومتوں کے تختے الٹے۔ بشارالاسدکاتختہ الٹتے الٹتے رہ گئے۔تجزیہ کاروں کے نزدیک سردجنگ کے شکست خوردہ ملک نے روایتی حریف کومات دیدی اورپوٹن انعام نہ جیت کربھی اوباماسے بازی جیت گئے۔


متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.