27 اکتوبر 2013
وقت اشاعت: 17:27
ڈرون حملے:امریکی ادارے کا صورت حال کا فرانزک جائزہ
جیو نیوز - نیویارک…ایک امریکی ریسرچ سینٹر نے ڈرون حملوں کی حقیقی تصویر پیش کرنے کے لیے عینی شاہدین کے بیانات اور حملے سے پہلے کی سیٹلائٹ تصاویر کی مددلی ہے۔ نیویارک کے situresearch ادارے نے انسداد دہشت گردی پر اقوام متحدہ کے نمائندے بین ایمرسن کی مدد سے ڈرون حملوں کی فرانزک تحقیقات کی ہیں ، اور اس کے لیے تین ڈرون حملوں کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے ، انہی میں سے ایک ریسرچ 17 مارچ 2011 کو دتہ خیل میں ہونے والے ڈورن حملے کی بھی ہے ، جس میں 43 عام شہری مارے گئے تھے ، یہ ڈرون حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب دتہ خیل میں بس اسٹیشن پر دو مقامی گروپس کے درمیان تنازع کا حل ڈھونڈنے کے لیے جرگہ ہورہاتھا ، کھلے میدان میں ہونے والے اس جرگے پر ڈرون حملے کا کوئی ثبوت نہیں بچا ، لیکن عینی شاہدین اور وہ افراد جو اس حملے میں بچ گئے ، ان کے بیانات اور حملے سے پہلے کی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے اس وقت کی تھری ڈی اینی میشن بناکر حقیقت کے قریب پہنچنے کی کوشش کی کہ دراصل اس وقت دتہ خیل میں اس جگہ پر کیا ہورہا تھا جب وہاں ڈرون حملہ ہوا ۔