8 نومبر 2013
وقت اشاعت: 2:0
امریکی صدرنے ایران پر اقتصادی پابندیاں نرم کرنے کا امکان ظاہرکردیا
جیو نیوز - واشنگٹن… برسوں سے ایک دوسرے کے دشمن اب دوستی کی پینگیں بڑھارہے ہیں، ایران کے ایٹمی پروگرام کامسئلہ حل کرنے کیلیے امریکی صدرنے اب اقتصادی پابندیاں نرم کرنے کا بھی امکان ظاہرکردیاہے۔ آج کل عالمی منظر نامے کی سب سے بڑی خبر ہے امریکا اور پانچ عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات۔ٹیبل سجی ہے جینیوا میں جہاں امریکا کی جانب سے وزیرخارجہ جان کیری اور ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف آمنے سامنے ہوں گے۔مسئلہ وہی پرانا ہے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے دنیا بھر کے خدشات کو دور کرے اور اسی نکتے کو پکڑ کر امریکا پہلے ہی ایران کو یہ پیشکش کرچکا ہے کہ اگر تہران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو تقریبا چھ ماہ کیلئے بند کیا تو اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی لائی جاسکتی ہے۔آ ج امریکی صدر باراک اوباما نے بھی بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں میں نرمی آسکتی ہے لیکن اگر بات چیت ناکام ہوئی تو تہران کو مزید سخت پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایرانی موقف پیش کرتے ہوئے وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ آج شام تک ان مذاکرات کے اختتام سے پہلے پہلے کسی نکتے پر اتفاق کرلیں گے۔یورپی یونین کے تعاون سے ان پرانے دشمنوں کے درمیان برف پگھلانے کی کوشش کسی حدتک رنگ لے آئی ہے۔