15 مارچ 2016
وقت اشاعت: 23:57
شہروں پر جارحیت روکی جائے، شامی اپوزیشن وفد جنیواپہنچ گیا
جیو نیوز - واشنگٹن........امریکا اور اقوام متحدہ کی یقین دہانیوں کے بعد حکومت سے مذاکرات پر آمادہ ہونے والی شامی اپوزیشن نے جنیوا پہنچنے کے بعد ایک بار پھر مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے اورکہاہے کہ شام میں شہریوں کے خلاف شامی فوج کی جارحیت کے تسلسل میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں موجود نمائندہ وفد کو جنیوا بھجوانے سے قبل امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ شام کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر ہرصورت میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور اپوزیشن کے تمام دیرینہ مطالبات منوائے جائیں گے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام کی سپریم مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اپوزیشن کا نمائندہ وفد شام کے تنازع پر بات چیت کے لیے جنیوا پہنچ گیا ہے۔شامی اپوزیشن کے مذاکراتی وفد میں 17 ارکان شامل ہیں جو سپریم مذاکراتی کونسل کے چیئرمین ریاض حجاب کی قیادت میں جنیوا پہنچے ہیں۔
قبل ازیں اپوزیشن کے ترجمان منذر ماخوس نے ٹیلیفون پر’بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جنیوا پہنچنے والے وفد میں 20 ارکان ہیں جو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے مذاکرات کے موقع پر موجود ہوں گے۔ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کی اہم کامیابی قرارداد 2254 پر شامی حکومت کو عمل درآمد پر آمادہ کرنا ہے۔
خاص طور پر اس قرارداد کی شق 12 اور 13 پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ ان شقوں میں شامی حکومت سے شہروں کا محاصرہ ختم کرنے، امدادی سامان کارروائیوں کی بحالی، بمباری کی روک تھام اور قیدیوں کی رہائی کے مطالبات کیے گئے ہیں۔
ادھرروس کی نائب وزیرخارجہ جینادی جاتیلوف نے کہا کہ جنیوا مذاکرات سے قبل کوئی پیشگی شرط عاید نہیں کی گئی ہے۔نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جنیوا میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا امکان نہیں تاہم بالواسطہ بات چیت ہو سکتی ہے۔