16 مارچ 2016
وقت اشاعت: 2:55
سابق سی آئی اے چیف ڈیوڈ پیٹریاس کو سزا نہ دینے کا فیصلہ
جیو نیوز - واشنگٹن......... امریکا کی وزارت خارجہ نے خفیہ معلومات فاش کرنے پر سی آئی اے کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا رینک لیفٹیننٹ جنرل تک کم نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی وزارت دفاع نے لکھا ہے کہ اس بارے میں ہماری طرف سے سینٹ کی فوجی کمیٹی کے نام خط لکھ دیا گیا ہے۔فوج اس معاملے پر غور کر چکی ہے اور جنرل پیٹریاس کو سزا نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق پینٹاگون نے بتایاکہ جنرل ریٹائرڈ ڈیوڈ پیٹریاس کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کی جانا چاہیے،انھیںگزشتہ برس ایک لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیے جانے کے علاوہ مجموعی طور پر دو برس تک نگرانی میں بھی رکھا گیا تھا،سابق جنرل پیٹریاس نے عراقی جنگ میں اپنی اعلیٰ حکمت عملی کی وجہ سے شہرت حاصل کی تھی۔
پیٹریاس نے ایک امریکی عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے اپنی گرل فرینڈ اور سوانح نویس پاؤلا براڈویل کو خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ نائب وزیر دفاع اسٹیفن ہارپر نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین کو لکھے گئے ایک خط میں واضح کیا ہے کہ اس کیس پر مکمل نظر ثانی اور تجاویز کی روشنی میں ڈیوڈ پیٹریاس کے خلاف اضافی کارروائی کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ پیٹریاس کی تنزلی کرتے ہوئے ان سے فور اسٹار جنرل کا اعزاز واپس لینا ان کی انتہائی بے عزتی کا باعث ہوتا۔ یہ امر اہم ہے کہ پیٹریاس اب بھی وسیع تر پیمانے پر قابل عزت شخصیت تصور کیے جاتے ہیں۔ اگر ان کا یہ اعزاز واپس لے لیا جاتا تو انہیں مالی طور پر بھی شدید نقصان پہنچتا۔