تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
17 مارچ 2016
وقت اشاعت: 8:45

داعش کے خلاف امریکی فوجی کارروائیو ں میں مزید تیزی

جیو نیوز - نیویارک....... امریکا نے داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار شام اور عراق کے بعد افغانستان تک بڑھاتے ہوئے ان کی رفتار گذشتہ تین ہفتوں سے تیز کر دی ہے اور داعش کے 90 سے 100 ارکان کو ہلاک کر دیاہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے فوجی کمانڈرز کو افغانستان میں داعش کے خلاف کارروائیوں کا اختیار دینے کی منظوری کا فیصلہ ایک ماہ قبل کیا۔ ان کارروائیوں میں امریکی کمانڈوز کی کارروائیاں اور فضائی حملے بھی شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق امریکی انتظامیہ داعش کے خلاف ایسے علاقوں میں اپنے منصوبوں کو ازسرنو مرتب کر رہی ہے جہاں اس نے اپنے حامی تلاش کر لئے ہیں اور افغانستان میں کارروائیاں اس سلسلے کی کڑی ہے۔ امریکی فوجی حکام کے دعوی کے مطابق حالیہ دو سے تین ہفتوں کے دوران کی جانے والی کارروائیوں میں افغانستان میں داعش کے 90 سے 100 کے درمیان ارکان کو ہلاک کیا گیا۔

امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک افغان صوبہ ننگرہار میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد ایک ہزار جبکہ پورے ملک میں کئی ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ امریکی کمانڈرز نے اعتراف کیا ہے کہ داعش کو اپنے مارے جانے والے جنگجوؤں کی جگہ پر کرنے کیلئے مزید افرادی قوت بھرتی کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں۔

اخبار نے افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر میجر جنرل جیفری بچانن کے حوالےسے بتایا کہ افغانستان میں داعش کے خلاف اگرچہ بھرپور اور موثر کارروائیاں جاری ہیں اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ اس کے کچھ ارکان کے مارے جانے کا مطلب ہر گز نہیں کہ افغانستان سے داعش کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق افغانستان میں جنگ کے خاتمہ کے اعلان کے باوجود نئی کارروائیاں افریقہ، مشرق وسطی اور جنوبی و وسطی ایشیاءمیں داعش کے خلاف اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔

اس وقت عراق میں 3700 امریکی فوجی تعینات ہیں جن میں عراقی افواج کو تربیت فراہم کرنے والے افسران ، مشیر اور کمانڈوز شامل ہیں، اسی طرح شام میں امریکی خفیہ اداروں کے درجنوں اہلکار تعینات ہیں۔ امریکی وزیر دفاع ایشنن کارٹر نے عراق و شام میں داعش کے خلاف اپنے اتحادیوں خصوصاً عرب ممالک سے تعاون میں اضافہ کی درخواست کی ہے جو اس بات کا عندیہ ہے کہ یہاں داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں میں تیزی آ سکتی ہے۔

امریکی حکام لیبیا میں بھی داعش کے خلاف نیا محاذ کھولنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، اس سلسلہ میں لیبیا کی فضائی حدود میں جاسوس پروازوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جن کا مقصد داعش کی سرگرمیوں کے بارے میںمعلومات جمع کرنا اور فضائی حملوں کیلئے اہداف کا تعین کرنا ہے۔ امریکی خفیہ اداروں کے ارکان اس سلسلے میں کئی لیبیائی گروپوں سے بھی رابطوں میں ہیں۔

افغانستان میں اس وقت 9800 امریکی فوجی موجود ہیں اور صدر براک اوباما کے اقتدار چھوڑنے تک یہ تعداد 5 ہزار تک لائی جانی ہے لیکن حکام کا اندازہ ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا عمل آنے والے دنوں میں سست روی کا شکار ہوسکتا ہے اور افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر فوجیوں کی وطن واپسی کے منصوبے پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ دریں اثناءامریکا اور برطانیہ نے ایک ہزار فوجی لیبیا بھیجنے پر غور بھی شروع کر دیا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.